بھارت کے ایک شہر گورکھ پور میں رہنے والے اکتر سالہ رہائشی نے بتایا کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے سو سالہ پرانے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہے۔ اختر بھارت ریلوے کا ریٹائرڈ ملازم ہے۔ اس کے مطابق گورکھ پور کے افسران اور پولیس اس کے گھر آئے اور اس کے گھر کا احاطہ معلوم کرنے لگے۔ اختر کا گھر شمالی ہندوستان کی اترپردیش ریاست کے ایک مشہور ہندو مندر سے کچھ ہی میٹر کے فاصلے پر ہے۔
پولیس کا اس کے گھر کا دورہ کرنے کا مقصد یہی تھا کہ اس سے رضامندی ظاہر کرنے والے کاغذات پر دستخط کروا لیے جائیں۔ جب اس نے وہ کاغذات دیکھے جو اس کو اگلے دن مہیا کیے گیے تو ان پر یہ درج تھا کہ گورکھ ناتھ مندر کے جنوب مشرقی کنارے پر رہنے والے باشندوں نے ان کی زمینیں اور مکانات حکومت کے حوالے کرنے پر رضامندی دی ہے اور ہمیں اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کاغذات پر وہاں کے رہائشیوں کےنام اور دستخط موجود تھے۔ مندر کے آس پاس میں رہنے والی اقلیتی مسلم کمیونٹی کے تقریباََ ایک درجن خاندانوں کے رضامندی کے کاغزات پر دستخط تھے اور انہیں ان کے گھر خالی کرنے کے لئے کہا جا رہا تھا اور دستخط نہ کرنے والوں کو زبردستی کرنے کی دھمکی بھی دی جا رہی تھی۔
اتر پردیش میں دو سو بیس ملین کی آبادی ہے، جن میں سے بیس فیصد مسلمان ہیں اور اسی باعث یہ جگہ طویل عرصے سے مذہبی تناؤ کا مرکز ہے جو بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مزید خراب ہو گیا۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیاناتھ گورکھ ناتھ مندر کے مہانت ہیں جو 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ہیں تقریباََ دو دہائیوں تک گورکھپور سے پارلیمنٹ کے ممبر رہے ہیں۔
جگہ کی تلافی
اختر نے بتایا کہ گورکھپور میں مقامی عہدیداروں نے دستخط کنندگان کو بتایا کہ ان سے ان کی زمین اور جائیدادوں کی تلافی کی جائے گی لیکن وہ اس قسم کی کوئی پیشکش قبول نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ محض اپنے آباؤ اجداد کی زمین پر رہنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ہوتا آیا ہے اسی طرح وہ مسلم کمیونٹی امن سے ہندوؤں کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
انتظار حسین کا گھر بھی گورکھ ناتھ مندر کے جنوب مغرب کے احاطے میں آتا ہے۔ اس کو بھی مقامی عہدیداروں نے زبانی اطلاع دی ہے کہ اس کا گھر سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر حصول کر لیا جائے گا۔ حسین نے ان سے تحریری طور پر یہ بات بتانے کو کہا ہے۔
مئی 27 کو ایک اور مسلمان احمد کے ساتھ بھی یہی ہوا جو کہ ستر سالہ بوڑھا شخص ہے اور پچھلے دس سالوں سے ہائی بلڈ پریشر اور افسردگی کا شکار ہے۔ اس نے ان کاغزات پر دباؤ میں آکر دستخط تو کر دیے لیکن وہ سخت پریشانی کا شکار ہے کیونکہ وہ گھر پچھلے ایک سو پچیس سال سے اس کے خاندان کی ملکیت تھا اور اب وہ یہ اپیل وزیر اعلیٰ آدتیاناتھ سے کرنا چاہتا ہے کہ اس کا گھر اس سے نہ چھینا جائے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ ان کے گھر کیوں ہتھیائے جا رہے ہیں، افسران کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ یہ تمام لوگ اپنے گھر نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف گورکھپور کے ضلعی مجسٹریٹ کے مطابق لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ اپنے آبائی گھر چھوڑیں یا نہیں جبکہ یہ اصل حقیقت کے مترادف ہے۔ پانڈین نے میڈیا پر ہندو مسلم پرزم کے ذریعے سب کچھ دیکھنے کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ محض کورونا وائرس وبائی مرض پر توجہ دے رہی ہے۔
لیکن اتر پردیش میں حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی کے اقلیتی محکمہ کے چیئرمین، شاہنواز عالم نے کہا ہے کہ صحافیوں نے اطلاع دی ہے کہ انتظامیہ نے مندر کے آس پاس کے رہائشیوں کے زبردستی دستخط حاصل کیے ہیں اور عالم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سرکاری عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، ریاستی حکومت ان صحافیوں کو قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ان پر الزامات عائد کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ جمعہ کے روز ایک ویب سائٹ کے ذریعہ یہ رپورٹ بھی سامنے آئی ہے کہ گورکھپور کے عہدیداروں نے نئی دہلی میں مقیم ایک صحافی کو دھمکی دی تھی، جو گورکھ ناتھ مندر کے قریب مسلمان خاندانوں کو مبینہ طور پر بے دخل کرنے کا احاطہ کررہا تھا جس کو ڈراکونین این ایس اے کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔
نمایاں تصویر: گورکھ ناتھ
