سورۃ المطففین قرآن کریم کی 83ویں سورۃ ہے جو آخری پارہ میں سے ہے۔ سورۃ المطففین کا شمار مکی سورتوں میں ہوتا ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ سورۃ المطففین چھتیس آیات اور ایک رکوع پر مشتمل ہے، المطففین کے معنی لفظی طور پر، "ناپ تول میں کمی کرنے والے” کے ہیں۔ اور اس سورۃ کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی وعید سنائی ہے، اسی مناسبت سے سورۃ مبارکہ کو سورۃ المطففین کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے۔
اس سورۃ کا مرکزی مضمون اور بنیادی موضوع ” آخرت “ ہے اور اس میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت فرمائی گئی ہے۔ اور اس سورۃ میں گنہگاروں اور نیکوکاروں کے انجام کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔
سورۃ مبارکہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی شدید وعید سنائی ہے، اور یہ بتایا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
مزید اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے کہ بدکار لوگوں کے نامۂ اعمال سِجِّین میں درج ہو رہے ہیں اور آخرت میں ان کو سخت تباہی سے دوچار ہونا ہے۔ پھر نیک لوگوں کا بہترین انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے علیین میں درج ہو رہے ہیں جس پر مقرب فرشتے مامور ہیں ۔
سورۃ مبارکہ کے آخر میں بیان کیا گیا کہ جو کافر قرآن مجید کو سابقہ لوگوں کی کہانیوں پر مشتمل کتاب کہتے تھے، دنیا میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور ان پر ہنستے تھے، اسی طرح قیامت کے دن وہ اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار کرنے سے محروم رہیں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ ان کی رسوائی اور دردناک انجام دیکھ کر مسلمان ان پر ہنسیں گے۔
یہاں مکمل عربی متن، اردو ترجمہ اور سورۃ المطففین کی تفسیر فراہم کی گئی ہے۔
ہلاکت ہے ناپ تول کمی کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ کہ جب دوسروں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔ اور جب خود انہیں ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کمی کردیتے ہیں۔ کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔ ایک بڑے دن کے لیے۔ جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔
سورۃ مبارکہ کی ان ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی شدید وعید سنائی ہے، ان آیتوں میں اُن لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو دُوسروں سے اپنا حق وصول کرنے میں تو بڑی سرگرمی دِکھاتے ہیں، لیکن جب دُوسروں کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا نتیجہ ہے، یعنی اگر وہ سمجھتے کہ ہمیں ایک بڑے دن پیش ہو کر حساب دینا ہے تو کبھی ماپ تول میں کمی نہ کرتے۔ روز قیامت کو بڑا دن اس بنا پر کہا گیا ہے کہ اس میں تمام انسانوں اور جنوں کا حساب ربُّ العالَمین کی عدالت میں بیک وقت لیا جائے گا اور عذاب و ثواب کے اہم ترین فیصلے کیے جائیں گے ۔
ہرگز نہیں! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ اور تم نے کیا سمجھا کہ سجین کیا ہے؟ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔
ان آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ انسان کو متنبہ کر رہے ہیں کہ کافر و فاجر لوگوں کے اعمال نامے ” سجّین “ میں ہیں، سجّین کے لفظی معنیٰ قید خانے کے ہیں۔ سجین ایک مقام خاص کا نام ہے اور کفار فجار کی ارواح کا مقام یہی ہے اور اسی مقام میں ان کے اعمال نامے رہتے ہیں، آگے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کیے جا رہے ہیں ۔
تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ جو جھٹلا رہے ہیں جزا و سزا کے دن کو۔ اور نہیں جھٹلاتا اس دن کو مگر وہی کہ جو حد سے بڑھنے والا گناہگار ہے۔ جب اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
ان آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ نے روز آخرت کو جھٹلانے والوں کی تباہی وبربادی کی وعید سنائی ہے۔ سزا و جزا کے دن کو دراصل وہی جھٹلاتے ہیں جو حد سے گزرنے والا، کافر، فاجر ہو، جب اس کے سامنے قرآن مجید کے احکامات و آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو بےبنیاد باتیں ہیں جو پرانے لوگوں سے منقول چلی آتی ہیں۔ یعنی ان کی گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتے ہیں۔
نہیں! بلکہ دراصل ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔ نہیں! یقینا یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔ پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔ پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کو تم جھٹلاتے تھے!
ان آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قرآن کو جھٹلانے والوں کے آیات کو جھٹلانے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں یا ان کے حق ہونے میں کوئی شبہ ہے، بلکہ ان کی بد اعمالیوں اور گناہوں کی وجہ سے ان کے دل مسخ اور زنگ آلود ہوچکے ہیں، جو ان میں حق و باطل کو پرکھنے کی تمیز ہی باقی نہیں رہ گئی۔ قیامت کے دن نافرمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلا عذاب یہ ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے، یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیے جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ پھر وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا: دنیا میں تم لوگ جنت، دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے۔ اب دیکھ لو دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آ گئی ہیں۔
نہیں ! یقینا نیکوکاروں کے اعمال نامے علیین میں ہوں گے۔ اور تم کو کیا معلوم کہ علیون کیا ہے؟ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔
ان آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ مومنین کا احوال بیان فرما رہے ہیں، ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نیک لوگوں کے اعمال نامے علیّین میں ہیں۔ علیّین کے لفظی معنیٰ بالا خانوں کے ہیں۔ یہ اُس جگہ کا نام ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، یعنی علیین ایسا بلند مرتبہ مقام ہے کہ وہاں ہر وقت اللہ کے مقرب فرشتے موجود رہتے ہیں۔
یقینا نیکوکار نعمتوں میں ہوں گے۔ وہ تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔ تم دیکھو گے ان کے چہروں پر تروتازگی کی علامات۔ انہیں پلائی جائے گی خالص شراب جس پر مہر لگی ہوگی۔ اس کی مہر ہوگی مشک کی۔ اس چیز کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے۔ اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔ یہ ایک چشمہ ہے جس پر پیتے ہیں مقربین بارگاہ۔
ان آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ نیک لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ فرماتے ہیں۔ بیشک اللّٰہ تعالیٰ کے اطاعت گزار نیک لوگ ضرور جنت کی نعمتوں میں ہوں گے، وہ جنت میں تختوں پر بیٹھ کر اللّٰہ تعالیٰ کے اِکرام اور اس کی نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اُس نے انہیں عطا فرمائیں۔ جنتی لوگوں کے چہرے جنت کی نعمتوں سے ایسے ترو تازہ، پر ونق اور خوش و خرم ہوں گے کہ دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ وہ کس قدر نعمت اور عیش و آرام میں ہیں۔ اور ان کو پینے کے لیے خالص شراب جس پر مشک کی مہر ہوگی ملے گی، سو عمل کرنے والوں کو عمل اور کوشش کرنے والوں کو کوشش اور سبقت کرنے والوں کو ایسی چیز کے لیے سبقت اور خرچ کرنے والوں کو خرچ کرنا چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ اور اس شراب کی آمیزش تسنیم کے پانی سے ہوگی، تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پیئیں گے۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہوگی۔
یقینا جو مجرم تھے وہ اہل ِ ایمان پر ہنسا کرتے تھے۔ اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔ اور جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو باتیں بناتے ہوئے لوٹتے تھے۔ اور جب وہ ان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔ جب کہ انہیں نہیں بھیجا گیا تھا ان پر نگران بنا کر۔
ان آیات میں ﷲ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ کفارکا طرز عمل بیان کیا ہے کہ کفار، مومین پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے تھے۔ وہ اہل ایمان کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ دیکھو ان بیوقوفوں کو جنہوں نے آخرت کے موہوم وعدوں پر اپنی زندگی کی خوشیاں اور آسائشیں قربان کردی ہیں۔ اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے، کہ دیکھو یہ ہیں وہ احمق جو جنت کی حوروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ گھر واپس آتے ہوئے بھی اہل ایمان کو موضوع بنا کر خوب باتیں بناتے خوش گپیاں کرتے تھے۔ اور جب وہ اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔ یعنی ان کی عقل ماری گئی ہے، اپنے آپ کو دنیا کے فائدوں اور لذتوں سے صرف موت کے بعد کسی جنت کے ملنے کے وعدہ پر محروم کر لیا ہے۔ آخر میں ان مذاق اڑانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں۔
تو آج (قیامت) کے دن اہل ایمان ان کفار پر ہنس رہے ہیں۔ وہ تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ بدلہ مل گیا کافروں کو اس کا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے!
سورۃ کی ان آخری آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن معاملہ الٹ ہوجائے گا، اب اہل ایمان کفار پر ہسنتے ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ خود گمراہ ہونے کے باوجود ہمیں گمراہ کہتے تھے اور واضح دلائل کے باوجود نہ انہوں نے پیدا کرنے والے کا حق پہچانا اور نہ آخرت کی فکر کی اور یہ جانتے ہوئے بھی دنیا کی لذتوں میں مست رہے کہ یہ عارضی ہیں۔ چونکہ وہ کفار ثواب سمجھ کر مومنوں کو تنگ کرتے تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ آخرت میں مومن جنت میں مزے سے بیٹھے ہوئے جہنم میں جلنے والے ان کا فروں کا حال دیکھیں گے اور اپنے دلوں میں کہیں گے کہ خوب انہیں ان کے اعمال کا صلہ مل گیا ۔
ﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کرنے اور اپنے مقربین میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
یہاں تصویروں میں پوری سورۃ بمع اردو ترجمع دی گئی ہے