سورۃ الانفطار: قیامت کے احوال

سورۃ الانفطار قرآن کریم کی 82ویں سورۃ ہے جو آخری پارہ میں سے ہے۔  سورۃ الانفطار کا شمار مکی سورتوں میں ہوتا ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ سورۃ الانفطار اُنیس آیات اور ایک رکوع پر مشتمل ہے، الانفطار کے معنی لفظی طور پر، "پھٹ جانے” کے ہیں۔ اور اس سورۃ کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے وقت آسمان کے پھٹ جانے کا تذکرہ فرمایا ہے، اسی مناسبت سے سورۃ مبارکہ کو سورۃ الانفطار کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے۔

اس سورۃ کا مرکزی مضمون اور بنیادی موضوع یہ ہے کہ اس میں قیامت کے دن کے احوال بیان کئے گئے۔ اور اس سورۃ میں گنہگاروں اور نیکوکاروں کا انجام بھی بیان کیا گیا ہے۔

سورۃ مبارکہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے وقت نظام کائنات میں رونما ہونے والی ہیبت ناک تبدیلیوں کا تذکرہ کر کے فرمایا ہے کہ اس وقت ہر جان کو وہ سب کچھ معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے پیچھے چھوڑا۔ 

مزید اس سورۃ میں انسان کو عطا کی جانے والی نعمتیں بیان کر کے اسے جھنجوڑا گیا کہ کس چیز نے تجھے اپنے رب  کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا اور تو نے اس کی نافرمانی شروع کر دی۔

علاوہ ازیں اس سورۃ مبارکہ میں انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ ہر انسان پر کراماً کاتبین دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اَعمال اور اَقوال کے نگہبان ہیں اور وہ اس کے تمام اعمال جانتے ہیں۔

سورۃ مبارکہ کے آخر میں گنہگاروں اور نیکوکاروں کا انجام تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

یہاں مکمل عربی متن، اردو ترجمہ اور سورۃ الانفطار کی تفسیر فراہم کی گئی ہے۔

جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور جب تارے بکھر جائیں گے۔ اور جب سمندرپھاڑ دیے جائیں گے۔ اور جب قبریں تلپٹ کردی جائیں گی۔ (اُس وقت) ہر جان جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ 

سورۃ مبارکہ کی ان ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے روزِ قیامت کا نقشہ کھینچا ہے اور یہ بتایا ہے کہ جب وہ پیش آ جائے گا تو ہر شخص کے سامنے اس کا کیا دھرا سب آ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے جو وقوعِ قیامت کے وقت نظام کائنات میں رونما ہوں گی، اس دن اللہ کے حکم اور اس کی ہیبت سے آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اتر آئیں گے، اور ستارے ٹوٹ کر جھڑ پڑیں گے اور سب دریا بہنے لگیں گے اور بہہ کر ایک ہو جائیں گے اور قبریں اکھاڑ دی جائیں گی یعنی ان میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے تو اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔

 اے انسان ! تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اپنے ربّ کریم کے بارے میں۔ جس نے تمہیں تخلیق کیا پھر تمہارے نوک پلک سنوارے پھر تمہارے اندر اعتدال پیدا کیا۔ پھر جس شکل میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔

ان آیات میں ﷲ تعالیٰ انسان کو متنبہ کر رہے ہیں کہ محسن پروردگار کے احسان و کرم کا تقاضا یہ تھا کہ تو شکر گزار اور احسان مند ہو کر اس کا فرمانبردار بنتا اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم آتی، مگر تو اس دھوکے میں پڑ گیا کہ تو جو کچھ بھی ہے خود ہی بن گیا ہے اور یہ خیال تجھے کبھی نہ آیا کہ اس وجود کے بخشنے والے کا احسان مانے۔ انسان کی تخلیق کے ابتدائی مراحل کے ذکر میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کیا، اور صرف پیدا ہی نہیں کردیا بلکہ تیرے وجود اور تمام اعضا کو ایک خاص مناسبت کے ساتھ درست کرکے بنایا، ہر عضو کو اسکے مناسب جگہ دی، ہر عضو کی جسامت اور طول وعرض کو ایک تناسب سے بنایا کہ ذرا اس سے مختلف ہوجائے تو اعضائے انسانی کے وہ فوائد باقی نہ رہیں جو اس کی موجودہ صورت میں ہیں، اس کے بعد فرمایا کہ اس نے تیرے وجود کو ایک خاص اعتدال بخشا جو دنیا کے کسی دوسرے جاندار میں نہیں۔ اعضاء کے تناسب کے اعتبار سے بھی اور مزاج و طبیعت کے اعتبار سے بھی۔ گویا تمہاری تخلیق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کی مظہر ہے۔ تمہاری تخلیق کے اندر توازن اور خوبصورتی کا یہ پہلو گویا اس حقیقت پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی شکل اور اس کے مختلف اعضاء اپنی مرضی و مشیت کے مطابق بناتا ہے۔ ظاہر ہے اس معاملے میں کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں۔

 ہرگز نہیں ! بلکہ اصل میں تم جزا و سزا کا انکار کر رہے ہو۔ حالانکہ تم پر نگران (فرشتے) مقرر ہیں۔ جو بڑے باعزت لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو۔

ان آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے انکار کی وجہ یہ نہیں کہ تمہیں بات کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تم جزا و سزا کے قانون الٰہی کے منکر ہو۔ تم چاہے دارالجزاء کا انکار کرو یا اس کو جھٹلاؤ یا اس کا مذاق اڑاؤ، اس سے حقیقت نہیں بدلتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں دنیا میں آزاد نہیں چھوڑا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے بطور نگران مقرر کر رکھے ہیں جو اس کا ایک ایک عمل لکھ رہے ہیں۔ یہ لکھنے والے نہایت معزز فرشتے ہیں، وہ لکھنے میں کوئی خیانت نہیں کرتے، نہ کوئی بات لکھنے سے چھوڑتے ہیں اور نہ زیادہ لکھتے ہیں۔

 یقینا نیکوکار بندے نعمتوں میں ہوں گے۔ اور یقینا گنہگار جہنم میں ہوں گے۔ داخل ہوں گے اس میں جزا و سزا کے فیصلے کے دن۔ اور وہ اس سے کہیں غائب نہیں ہو سکیں گے۔

سورۃ کی ابتدائی آیات میں ﷲ تعالی نے فرمایا کہ قیامت کے روز انسان کے اعمال اس کے سامنے آ جائیں گے اور ان آیات میں ﷲ تعالی ان اعمال کی سزا وجزاء کا ذکر فرماتے ہیں کہ اطاعت شعارنیکوکار تو اس روز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں مسرور ہوں گے اور سرکش نافرمان جہنم کی آگ میں ہوں گے اور روز جزا کو اس میں داخل ہوں گے، یعنی جس روزِ جزا و سزا کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہونگے، ظاہر ہے جہنم سے بھاگ نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہوگا اور نہ ہی کسی میں بھاگ جانے کی طاقت ہوگی۔ یعنی نہ اس سے بھاگ کر کسی اور جگہ پناہ لے سکیں گے اور نہ جہنم میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکل سکیں گے۔

اور کیا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ روز جزا کیا ہے؟ پھر کیا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ روزجزا کیا ہے؟ جس روز کسی جان کو کسی دوسری جان کے لیے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا اور حکم اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ 

سورۃ کی ان آخری آیاتِ کریمہ میں ﷲ تعالیٰ قیامت کی عظمت و اہمیت ذہن میں بٹھانے کے لئے سوال اور پھر تکرار سوال فرماتے ہیں کہ تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ اور پھر اس سوال کے جواب میں ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس روز کسی جان کو کسی دوسری جان کے لیے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا، اور امر کُل کا کُل اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والے دن تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ کے پاس ہوں گے، جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔ 

ﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ ہمیں دنیا اور شیطان کے دھوکے سے محفوظ فرمائے اور اپنی آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
یہاں تصویروں میں پوری سورۃ بمع اردو ترجمع دی گئی ہے: