مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم مہربانی اور محبت کرنے والے ہمسائے ہوں، قطع نظر اس کے کہ ہمارے آس پاس کون رہتا ہے۔ قرآن پاک کی دونوں آیات کے ساتھ ساتھ ہمارے نبی کی حدیثیں ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہیں۔
آئیے قرآن پاک کی دس آیات کے ساتھ ساتھ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان حدیثوں پر بھی غور کرتے ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اللہ کے سچے عبادت گزار ہونے کے لیے ہمیں اس دنیا میں اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے:
اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو
سورة النساء آیت 36
اپنے ہمسائیوں کے ساتھ احترام سے پیش آئیں
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ہمسائیوں کے حقوق کیا ہیں تو انہوں نے جواب دیا۔
ہمسائیوں کے سب سے کم حقوق یہ ہیں کہ اگر وہ اس سے قرض کا سوال کرے تو وہ اسے دے دے۔ اگر وہ مدد مانگے تو وہ اس كى مدد كرے اور اگر وہ اس سے قرض لینا چاہے تو اسے قرض دے۔ اگر اسے کچھ عطیہ کی ضرورت ہو تو اسے وہ دے دے۔ اگر وہ اسے دعوت دے تو اس كى دعوت قبول كى جائے۔ اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس سے جا کر ملاقات کی جائے۔ اگر وہ انتقال کر جائے تو اسے اس کے جنازے میں شرکت کرنی چاہیے۔
مستدرک الواسعائل ، 2:79
قریبی ہمساۓ
ال حسن سے ہمسائیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو
ہمسائے کی اصطلاح میں ایک شخص کے سامنے چالیس گھر، اس کے پیچھے چالیس گھر، اس کے دائیں جانب چالیس گھر اور بائیں جانب چالیس گھر شامل ہیں۔
الاعداب المفراد ، 06:09
ہمسائیوں کے حقوق پورے کرنے والوں پر برکت ہے
ہمسائیوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتایا
میں آپ کو جو بتاتا ہوں وہ سنو۔ اللہ کی رحمت سے برکت والے چند لوگ ہی ہمسائیوں کے حقوق پورے کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے ہمسائے کے حقوق کا اس حد تک حکم دیا کہ میں سمجھتا تھا کہ وہ انہیں وارث مقرر کر دے گا۔