اللہ تعالی نے انسانوں کے لیے قرآن مجید میں بہت سارے احکامات دیئے ہیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ انسان ان تمام باتوں کو بہتر طریقے سے سمجھے اور پھر ان پر عمل پیرا ہو۔

اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پہلے ہی احتیاط سے رہنے پر خبردار کیا تھا۔
جب حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا تو اللہ تعالی نے فرشتوں اور جنات کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں اور تمام فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی سوائے ابلیس کے کیوں کہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے بہتر ہے اور اسے اس بات کا بہت غرور تھا کہ وہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا ہے۔
اسی وقت اللہ نے ابلیس کو جنت سے نکال دیا حضرت آدم علیہ السلام کو ابلیس کے حوالے سے خبردار کر دیا تھا تاکہ ان کو کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔
حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھا گیا جہاں انہیں ہر قسم کا آرام میسر تھا۔
جنت، جہاں ہر قسم کی آسائش موجود ہے اور ہر قسم کا آرام بھی اللہ کی جانب سے ان کو دیا گیا۔
ابلیس چونکہ حضرت آدم علیہ السلام کو بہکانا چاہتا تھا اور انہیں اور حضرت حوا علیہ السلام کو جنت سے بے دخل کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے ان دونوں کو ورغلایا اور درخت سے پھل توڑ کر کھانے کو کہا۔ وہ ان دونوں کو اس بات کی تاکید کرتا رہا کہ اس درخت کا پھل بہت فائدہ مند ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام، ابلیس کے بہکاوے کا نشانہ بنے اور انہوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس کے بعد وہ انسانی شکل میں تبدیل ہوگئے۔
اللہ تعالی کو ان دونوں کا یہ عمل بالکل پسند نہ آیا اور وہ ان سے خفا ہو گیا چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی نے اللہ کے حضور توبہ طلب کی اور ان کو اپنے گناہ کا احساس بہت شدت سے ہونے لگا تو اللہ نے ان دونوں کی سن لی۔
لیکن اللہ نے ان دنوں کو جنت سے نکال کر زمین پر اتار دیا اور فرمایا کہ اگر اب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی پیغام آئے تو اس کی پیروی کرنا کیوں کہ اسی میں بھلائی ہے۔
تمام تصاویر: قرآنک قوٹس
حضرت آدم علیہ السلام کے بارے مزید پڑھیں: حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی سے پانچ قیمتی اسباق
نمایاں تصویر: پکسابے