اللہ نے حضرت ہود علیہ السلام کو عاد کے لوگوں کے پاس بھیجا تھا۔ عاد کے لوگ الاحقاف (سینڈ ڈینس) نامی سرزمین میں رہتے تھے۔ اب، یہ صحرا ہے، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا تھا۔
عاد کے لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ وہ متکبر تھے، طرز عمل میں انتہائی غیر منصفانہ تھے اور اللہ کی برکات کا غلط استعمال کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنے اوپر اللہ کے غضب کو دعوت دی۔
اس مضمون میں ہم قرآن مجید کی روشنی میں عاد کے لوگوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے۔
حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد سے سبق
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا
اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کاہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ زیاده دیا، سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو۔
سورة الأعراف آیت 69
اور مزید قرآن مجید میں، حضرت ہود علیہ السلام کے الفاظ ذکر کیے گئے ہیں
کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو۔ اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے۔ اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ظلم سے پکڑتے ہو۔ اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو۔
سورة الشعراء آیت 128-131
حضرت ہود علیہ السلام نے لوگوں کو کہا کہ جھوٹے بتوں کی پوجا نہ کرو بلکہ ایک سچے رب کی اطاعت کرو۔ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں حق اور صداقت کی طرف دعوت دی۔ تاہم، عاد کے لوگوں نے حقیقت سے منہ موڑنے کا انتخاب کیا۔ قرآن مجید ان کے جواب کو اس طرح بیان کرتا ہے
انہوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو لایا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے۔
سورة هود آیت 53-54
اور مزید قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ
قوم نے جواب دیا، کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں (کی پرستش) سے باز رکھیں؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعده کرتے ہیں اسے ہم پر لا ڈالیں۔
سورة الأحقاف آیت 22
اپنے کے غرور میں عاد کے لوگ اتنے اندھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اللہ کے پیغام کو نظرانداز کر دیا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اللہ کے نبی حضرت ہود علیہ السلام کو بھی چیلنج کیا کہ وہ ان کے پاس اللہ کی سزا لائیں! بے شک عاد کے لوگ ایک ایسی قوم تھی جسے اللہ نے بے حد طاقت اور وقار دیا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنے انعامات کے لئے عاجز اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے بدعنوانی کے راستہ کا انتخاب کیا اور ضرورت سے زیادہ تکبر میں مبتلا ہوگئے۔
چونکہ آپ علیہ السلام کے لوگوں نے وجہ سے انکار کردیا ، لہذا حضرت ہود علیہ السلام کے پاس اللہ سے دعا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے
نبی نے دعا کی کہ پروردگار! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر۔
جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے۔
سورة المؤمنون آیت 39-40
لیکن اللہ نے انہیں فورا سزا نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک کے بعد ایک موقع فراہم کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خشک سالی، آفات، بیماریوں اور قحط سے دوچار کیا۔ لیکن ‘عاد کے لوگوں نے یہ سمجھنے سے انکار کردیا کہ وہ محض کمزور انسان تھے۔
انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کرنے اور توبہ کرنے سے انکار کردیا۔ آخر کار، ان کے پاس مزید امکانات باقی رہ گئے۔ اللہ کے حکم کے مطابق، سیاہ بادل افق کے قریب آنے لگے۔ قرآن محید بیان کیا گیا ہے
پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
سورة الأحقاف آیت 24
اللہ نے ان پر جو ہوا بھیجی تھی وہ سرد اور غصے میں تھی۔ آج ہمارے پاس اس طرح کے عذاب سے قریب ترین چیز طوفان ہے۔ اگر آپ نے طوفان دیکھا ہے تو، آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک تیز ہوا کی طوح ہوتا ہے جس میں تیز آواز، ناقابل یقین دہ دہاڑ ہوت ہے! طوفان بادلوں میں ایک چمنی کی طرح شروع ہوتا ہے اور پھر یہ ایک ٹچ ڈاون بناتا ہے۔. یہ تھوڑی دیر کے لئے ایک جگہ پر رہے گا، اور پھر تباہی کی پگڈنڈی کو چھوڑ کر آگے بڑھتا رہے گا۔
اور ہوا وہاں کچھ منٹ نہیں رہی، بلکہ سات رات اور آٹھ دن رہی! اللہ پاک نے قرآن محید میں فرمایا
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے۔ جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔
سورة الحاقة آیت 06-07
اسی طرح، قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا
اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے مسلمان ساتھیوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات عطا فرمائی اور ہم نے ان سب کو سخت عذاب سے بچا لیا۔ یہ تھی قوم عاد، جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ایک سرکش نافرمان کے حکم کی تابعداری کی۔ دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی، دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، ہود کی قوم عاد پر دوری ہو۔
سورة هود آیت 58-60
نتیجہ
ہم عاد کے لوگوں کی قسمت سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
قرآن مجید میں متعدد ایسے معاملات بیان کیے گئے ہیں جیسے عاد کے لوگ تاکہ ہم ان کی غلطیوں سے سبق حاصل کرسکیں۔ یوں، قرآن ہمیں غرور اور خود غرضی سے دور رہنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ ہمیں راستبازی کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے، جیسا کہ باطل کے راستے کے برخلاف جس کا انتخاب عاد کے لوگوں نے کیا۔
ہم جانتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے۔ تاہم، اس سے ہمیں حق کی نافرمانی اور تکبر میں ملوث ہونے کا لائسنس نہیں ملتا ہے۔ غرور، تکبر اور خود غرضی تباہ کن خرابیاں ہیں جن سے ہمیں بطور مسلمان گریز کرنا چاہئے۔ حقیقت کو مسترد کرنا اور آنکھیں بند کرکے جھوٹ کی پیروی کرنا یقینا چلنے کا سب سے غلط راستہ ہے۔
نمایاں تصویر: حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد سے سبق