ہم اکثر اوقات سیرت کو ان کتابوں میں پاتے ہیں جہاں بعض اوقات اس کا ذکر حقیقت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جب ہم کسی اور حقیقت کو پڑھتے ہیں تو ہم اس کو بے ساختہ پڑھتے ہیں، یہ محسوس نہیں کرتے کہ سیرت کی بہت اہمیت ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان تمام حقائق سے گزرنا پڑا۔ سیرت کے بارے میں جاننے کا مطلب صرف کتاب پڑھنا نہیں ہے، اس میں غور و فکر کرنا، اور اس سے سبق حاصل کرنا اور اپنی زندگی میں ان اسباق کا اطلاق کرنا شامل ہے۔ اس کے لئے روحانی تعلق اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو بیت اچھے سے جاننا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں سیرت سیکھنے کی اہمیت پر مزید غور کروں، ہمیں پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ سیرت کی اصطلاح کیا ہے۔ اس کا عام مطلب سوانح حیات ہے۔ چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت یا السیرۃ النبوی کا مطلب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح حیات (زندگی) ہے۔
سیرت کو سیکھنا اتنا اہم کیوں ہے؟ اس کی پانچ بڑی وجوہات یہ ہیں
اللہ ہمیں قرآن میں بتاتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنا بہترین ہے۔ لہذا، ان کے نقش قدم پر چلنے کے لئے، ہمیں ان کی زندگی کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔ سورہ احزاب میں اللہ کہتا ہے کہ
تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو
سورة الأحزاب آیت 21
ہم اکثر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہترین انسان سمجھتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ پہلے انسان تھے، بعد میں نبی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زیادہ تر ان کے اور ان کی زندگی سے جذباتی طور پر جڑ نہیں سکتے۔ ان کی زندگی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ رویا کرتے تھے، انہیں چوٹ پہنچی تھی (جسمانی اور ذہنی طور پر)، وہ اپنے خاندان سے محبت کرتے تھے، انہیں نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ یہ سب ان کے انسانی احساسات ہیں جن سے ہم غفلت برتتے ہیں اور صرف ان کی تبلیغ، غزوات، نبوت وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ سیرت پڑھنے سے ہمیں ایسے مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ان اسباق کو اپنی زندگیوں میں لاگو کرسکتے ہیں۔ مثاؒ کے طور پہ جب بھی وہ نئے لوگوں سے ملتے تو سب سے پہلے اپنا تعارف کراتے تھے۔ سلام کہتے تھے اور بہت شائستگی سے ان کا استقبال کرتے تھے۔ ایک اور سبق جو ہم سیرت سے سیکھ سکتے ہیں وہ صبر کا ہے۔ انہوں نے ہمیں دکھایا کہ اپنی زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ دنیا سے غافل نہ ہونا – وہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرتے تھے اور ان سے بے حد محبت کرتے تھے، وہ روزی کمانے کے لئے باہر بھی جایا کرتے تھے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی نوع انسان کی تاریخ میں واحد شخص ہیں جن کی زندگی کو مکمل تفصیل سے درج کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح کھایا، پیا، لوگوں کو سلام کیا، کپڑے پہنے وغیرہ۔ یہاں تک کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آسان ترین چیزیں بھی اچھی طرح درج ہیں۔ اگرچہ ان کی ایک بھی تصویر نہیں ہے لیکن ان کی جسمانی شکل بھی مکمل طور پر درج کی گئی ہے۔ بالکل ظاہر ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت قابل اعتماد اور قابل بھروسہ ہے۔
امت اس وقت ایمان کے بحران سے گزر رہی ہے۔ ہمیں اپنی امت کی شان کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے بارے میں تعلیم دیں اور اپنی زندگیوں میں سیکھے گئے اسباق کا اطلاق کریں۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ سیرت اور سنت ایک جیسے ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ سنت تکنیکی ہے اور اس میں صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے اقتباسات شامل ہیں۔ یہ ان کی زندگی کے بیانوں پر مشتمل ہے اور اس میں وہ کچھ بھی شامل ہے جو انہوں نے کہا، کیا اور منظور کیا۔
دوسری طرف سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل طور پر زندگی ہے۔ اس میں نہ صرف نبوت کے بعد کی زندگی شامل ہے بلکہ نبوت سے پہلے کی زندگی بھی شامل ہے۔ بلکہ بعض علماء ان کی پیدائش سے پہلے مکہ کے حالات پر بھی بحث کرتے ہیں تاکہ ہمیں ان حالات کو صحیح معنوں میں سمجھنے میں مدد ملے جن میں وہ پیدا ہوئے تھے اور بعد میں ان کی زندگی میں انہیں درپیش مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاکہ ان کی زندگی کی مکمل تعریف کی جاسکے۔
اس طرح آئیں ہم سب ایک پہل کریں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے بارے میں جاننے کی مخلصانہ کوشش کریں۔ آئیں ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے نہ صرف اپنے آپ کو سنت تک محدود رکھیں بلکہ سیرت کا بغور جائزہ لیں۔ سیرت، سنت اور حدیث کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔ ہم کسی ایک کے بغیر کسی دوسرے کو نہیں سمجھ سکتے۔
نمایاں تصویر: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی اہمیت