اسلام میں علم حاصل کرنے کی اہمیت

اسلام علم حاصل کرنے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ بلکہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جب اور جہاں ممکن ہو علم حاصل کرے۔

دوسرے لفظوں میں اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر فرد کے لیے ایک مذہبی ذمہ داری ہے۔

اسلام میں علم حاصل کرنے کی اہمیت

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

سنن ابن ماجہ ۔224

یہ ہم سب یعنی مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نصیحت ہے کہ اللہ نے ہم پر علم حاصل کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ مزید یہ کہ علم حاصل کرنا اللہ کی بہترین عبادات اور اطاعت میں سے ایک ہے۔ ابو اد-دردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ فرشتے اپنے پروں کو علم کے متلاشی پر نیچا رکھتے ہیں اور اس کے کیے سے خوش ہوتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اور سمندروں کی گہرائی میں مچھلیاں بھی اس کے لیے بخشش طلب کرتی ہیں۔ دین دار نمازی پر عالم آدمی کی فضیلت (یعنی چمک میں) پورے چاند کے آگے باقی ستاروں کی سی ہے۔ عالم ان انبیاء کے وارث ہیں جو نہ دینار کی اور نہ درہم کی بلکہ صرف علم کی وصیت کرتے ہیں اور جو اسے حاصل کرتا ہے اس نے درحقیقت بہت زیادہ علم کا حصہ حاصل کر لیا ہے۔

سنن الترمذی – 2682

اخلاص اور صبر

اول تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارے ارادے مخلص، ایماندار اور سب سے بڑھ کر اللہ ہی کی رضا کے لیے ہوں۔ ہمیں اپنے علم کے بارے میں بیکار دکھاوی یا شوخ گفتگو میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جو شخص علماء سے مقابلہ کرنے یا اپنے آپ کو جاہلوں سے برتر ثابت کرنے یا لوگوں کو دیکھانے کے لیے علم حاصل کرے گا تو اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔

سنن النساء – 2654

مزید یہ کہ ہمیں اپنے آپ پر بھی مہربای اور صبر کرنا چاہیے کیونکہ ہم راتوں رات سب کچھ سیکھنے کی توقع نہیں کر سکتے اور نہ ہی زندگی میں تمام مضامین پر قادر ہو سکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں پر روزانہ کی ذمہ داریاں اور فرائض بھی ہیں، اس لیے ہمیں اپنے اہداف کے ساتھ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ خود پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے۔ اس سے سیکھنے کے مقاصد کے لئے دن میں ایک وقت مقرر کرنے میں مدد مل سکتی ہے، اور شاید خاندان کے افراد کو (اگر کوئی ہے) ہمارے ساتھ سیکھنے کی ترغیب بھی دی جا سکتی ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو یہ حدیث یاد دلانی چاہئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

نیک عمل صحیح، خلوص اور اعتدال سے کرو اور جان لو کہ صرف تمہارے اعمال ہی تمہیں جنت میں داخل نہیں کریں گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل سب سے زیادہ باقاعدہ اور مستقل کیا جانے والا ہے اگرچہ وہ بہت کم ہی کیوں نہ ہو۔

صحیح البخاری۔ کتاب 81 ، حدیث 6541

قرآن کا کردار

اگر ہم اپنے آپ کو بہتر افراد بنانے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ایسا کرنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہوگا کہ قرآن سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ ہمیں باقاعدگی سے قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے اور صحیح تفسیر کی مدد سے اس کے مفہوم پر غور کرنا چاہیے۔ شيخ ابن عثيمين رحمۃ اللہ كہتے ہيں۔

اللہ کی کتاب کو یاد کریں اور روزانہ کچھ وقت اس کو یاد کرنے اور پڑھنے کے لیے مختص کریں، اس طرح کہ آپ کی تلاوت غور و فکر اور فہم کے ساتھ ہو اور اگر پڑھتے ہوۓ کوئی فائدہ مند نقطہ سامنے آئے تو پھر اس کا نوٹ کریں۔

شیخ ابن العثیمین – کتب العلم (صفحہ 119 ، سوال 17)

قابل عمل علم

ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ علم مساوات کا صرف ایک آدھ حصہ ہے— باقی نصف عمل اور ارادہ ہے۔ مناسب عمل اور ارادے کی عدم موجودگی میں ہم جو بھی علم حاصل کریں گے وہ بوسیدہ ہو جائے گا۔ شيخ صالح الفوزان رحمۃ اللہ كا قول ہے

علم عمل میں شامل ہوتا ہے اور عمل علم کا پھل ہے۔ پس بغیر عمل کے علم اس درخت کی طرح ہے جس کے پھل نہ ہوں اور اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اور علم عمل لانے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔

شارح ثلاثۃ الاصول وادلتھا

نمایاں تصویر: اسلام میں علم حاصل کرنے کی اہمیت