ہر مسلمان، چاہے مرد ہو یا عورت، سترہ طرح سے صدقہ دے سکتا ہے اور اسے ان تمام اقسام کا پتا ہونا چاہیے۔ صدقہ صرف پسوں سے ہی منسلک نہیں ہے۔ ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہماری کمائی سے پیسہ نکالنا اور کسی مستحق کو دے دینا صدقہ ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل دین ہے جس نے اپنے پیروکاروں کے لئے بہت آسانی رکھی ہے۔ جس مسلمان کو جس طرح سے بھی آسانی لگے وہ، اس طرح صدقہ دے کر اپنے نامہ اعمال میں نیکیاں بڑھا سکتا ہے۔
سترہ اقسام، جن سے آپ صدقہ دے سکتے ہیں
دعا مانگنا
اگر آپ صرف اس شخص کے لئے دعا کر رہے ہیں جس کی آپ کو پرواہ ہے یا کوئی بھی شخص جس نے آپ سے دعا مانگنے کو کہا ہو تو یہ ایک صدقہ ہے۔ ہم سب کو ہی ہمیشہ ہی اللہ سے دعا مانگنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کا طریقہ بھی بہت آسان ہے تو محض کسی کے لئے دعا مانگ کر آپ صدقہ کے برابر ثواب کما سکتے ہیں۔
علم پھیلانا
اگر اللہ نے آپ کو علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اور اس علم پر عبور بھی حاصل کروایا ہے تو اسے ان لوگوں میں پھیلانا جو اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں، صدقہ ہے۔ اور جب تک وہ لوگ آپ کے سیکھائے ہوئے علم سے مستفید ہوتے رہیں گے تب تک وہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔
بہتر مشورہ دینا
اپنے چھوٹے بہن بھائیوں یا آپ سے کم عمر لوگوں کو دانشمندانہ مشورے دینا بھی صدقہ کے مترادف ہے۔ اس طرح آپ اپنے سیکھے ہوئے علم اور دانشمندی سے خدمتِ خلق کے کام آ رہے ہیں اور بدلے میں آپ کو ثواب بھی ملے گا۔
اپنے مسلمان بھائی کو مسکرا کر دیکھنا
ہم سارا دن میں کتنے ہی مختلف لوگوں سے ملتے ہیں اور بات کرتے ہیں لیکن بعض دفعہ ہم اتنا تھکے ہوئے ہوتے ہیں کہ ٹھیک سے کسی سے بات بھی نہیں کر پاتے تو ایسے میں اگر آپ صرف اپنے مسلمان بھائی کو مسکرا کر دیکھ لیں تو آپ کی طرف سے وہ صدقہ سمجھا جائے گا جس کو دینا بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔
مدد کرنا
اگر اللہ نے آپ کو اس قابل بنایا ہے کہ آپ کسی کے لئے وسیلہ بن سکتے ہیں تو غریبوں کی مدد کریں اور ان لوگوں کی مدد کریں جو اپنی مدد نہیں کرسکتے ہیں یا کسی مشکل سے دوچار ہیں۔ لوگوں کے مسائل حل کرنا بھی وہ کام ہوسکتا ہے جو آپ کی طرف سے صدقہ سمجھا جائے گا۔
اپنے پیاروں کو وقت دیں
آج کی دنیا میں ہم سب کو کوئی نہ کوئی مصروفیت ہوتی ہے جس کے باعث ہم بعض دفعہ اپنے گھر والوں کو وقت دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ والدین اور اپنی اہلیہ یا شوہر کے لئے وقت نکالنا بھی ایک صدقہ ہے۔
بہترین پرورش کرنا
ماں باپ ہونے کے ناطے اپنے بچوں کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرنا اور ان کی بہترین پرورش کرنا، ان کو اچھے برے کی تمیز سکھانا، معاشرے میں اچھا اور قابلِ اعتماد انسان بنانا بھی ایک صدقہ ہے۔
مشکل اوقات میں صبر کرنا
مسلمان ہونے کہ حیثیت سے ہمیں بہت صبر کرنا چاہیے، کسی کو بھی اپنی پریشانیوں کے بارے میں شور نہیں مچانا چاہیے، کیونکہ ایک مسلمان کو اللہ کی ذات پر مکمل توکل ہونا چاہیے کہ اللہ آپ کے لئے ان مسائل کو حل کرے گا۔
اچھے کام کرنے کا مشورہ دینا
اپنے گمراہ دوستوں کو اللہ کی راہ پر گامزن ہونے کا مشورہ دیں تاکہ وہ بھی آپ کے توسط سے سیدھی راہ دیکھ سکیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے جدوجہد شروع کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
برائی سے روکنا
اسلام ایک امن پسند دین ہے۔ اس میں برائی کی یا کسی کے ساتھ برا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بھی برے کاموں کی مذمت کریں، بری چیز کا منصوبہ نہ بنائیں، کسی بھی زندہ چیز کو تکلیف نہ دیں اور نہ ہی اسے ہلاک کریں اور بدلے میں اپنے لئے نیکیاں کمائیں اور صدقہ کا ثواب حاصل کریں۔
نرمی سے بات کریں
اسلام حسنِ اخلاق کو بہت ترجیح دیتا ہے اور بد اخلاقی کو سخت ناپسند کرتا ہے اس لئے سخت لہجہ مت رکھیں اور نا ہی بدتمیز بنیں۔ اللہ متکبر لوگوں کو پسند نہیں کرتا اس لئے اللہ کی مخلوق سے عاجزی سے بات کرنا بھی صدقہ کی ایک قسم ہے۔
معاف کرنا
درگزر کرنا اللہ پاک کی کروڑوں صفات میں سے ایک صفت ہے۔ اللہ اپنی مخلوق کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور لوگوں کو بھی معاف کرنے کیتاکید کرتا ہے۔ لہذا ان لوگوں کو معاف کریں جو آپ سے معافی مانگتے ہیں اور اپنے لیے بھی اللہ کے حضور معافی قبول ہونے کی توقع رکھیں۔
بڑوں کا احترام کریں
اسلام اتنا خوبصورت دین ہے کہ وہ دوسروں کا احترام کرنے پر بھی ہمیں ثواب کا مستحق بناتا ہے۔ بزرگوں اور نوجوانوں کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو عزت دیں اور جس کسی کا بھی کوئی کام اگر سراہنے کے قابل ہے تو ایسا ضرور کریں اور صدقہ دینے میں پہل کریں۔
دوسروں کی خوشی کا حصہ بنیں
کسی اور کی خوشی میں خوش رہنا، حسد نہ کرنا بھی صدقہ دینے کی ایک قسم ہے۔ زندگی کے کسی بھی میدان میں اپنے سے آگے اور کامیاب لوگوں سے متاثر ہوں اور ان سے بالکل مت جلیں اور اپنی محنت جاری رکھیں اور بدلے کی امید اللہ سے رکھیں۔ ایسا کر کہ آپ صدقہ بھی دے دیں گے اور اللہ کے سامنے سرخرو بھی ہو جائیں گے۔
بیمار کی عیادت کریں
بیماروں کی عیادت کرنا ہمارے پیارے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی سنت بھی ہے تو مسلمان ہوتے ہوئے ہمیں چاہیے کی سنت کی پیروی کریں اور صدقہ بھی دیں۔
نقصان دہ چیزوں کو راستے سے ہٹائیں
اسلام میں چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے پر بھی بہت ثواب ہے جیسا کہ آپ کے راستے میں آنے والے پتھر کو ہٹانا بھی آپ کی طرف سے صدقہ ہے اور اس سے آپ اپنے لئے آسانیاں بھی پیدا کر سکتے ہیں، اپنی نیکیوں کو بڑھا کر۔
کسی کی صحیح راستے پر رہنمائی کرنا
رہنمائی کا مطلب ہے، اگر آپ کو رستے میں بھٹکا ہوا کوئی گمراہ نظر آ رہا ہے، تو اس شخص کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کریں کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے۔
ہم نے دیکھا کہ یہ تمام چھوٹے چھوٹے کام جن میں ہمارا بہت زیادہ وقت بھی صرف نہیں ہوتا، ان کاموں کو انجام دینے سے ہم کسی طرح صدقہ دے سکتے ہیں اور اللہ کی قربت حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو صدقہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حوالہ: القرآن گائیڈنس
نمایاں تصویر: پکسابے