مرنے والا یا مردہ انسان جب اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو جو نیکیاں وہ اپنی زندگی میں کر چکا ہوتا ہے، وہی ساتھ اپنے نامہ اعمال میں لے کر جاتا ہے۔ لیکن کچھ ایسی چیزیں موجود ہیں جو اس کو اس کی موت کے بعد بھی فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں کی تعداد میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ آئیں ان تمام چیزوں پر اسلام کی روشنی میں نظر ڈالتے ہیں کیونکہ اسلام نے وضاحت کی ہے کہ زندہ افراد کی طرف سے بھی چند اقدامات ایسے ہیں جن سے مرنے والوں کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے، اور ان کی قبروں میں ان کے لئے آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو، اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجاتی ہیں سوائے تین نیکیوں کے: صدقہ جاریہ (جاری رہنے والا صدقہ) مثال کے طور پر ایک وقف یا خیرات، فائدہ مند علم (جسے اس نے پیچھے کسی کے لئے چھوڑ دیا ہے)، یا ایک نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی ہو۔
الترمزی 1376
مرنے والے کے لئے دعائے مغفرت
مرنے والوں کے بیٹے اور بیٹیوں دونوں کی طرف سے مانگی جانے والی معافی کی دعائیں، اس کے لئے بڑے فوائد حاصل کرتی ہیں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جنت میں انسان کی حیثیت بلند ہوگی اور وہ پوچھے گا، میں نے اس۔مقام کو کیسے حاصل کیا؟ اس کو بتایا جائے گا کہ آپ کے لئے معافی مانگنے والی اولاد کی وجہ سے
ابنِ مجاہ 3660
مرنے والے کے نام کا صدقہ
ایک اور چیز جو میت تک پہنچ سکتی ہے وہ ہے اس کے نام پر دیا جانے والا صدقہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ملے گا۔
صحیح بخاری 1388
مرنے والے کے نام پر حج یا عمرہ
ایک اور کام جو مرنے والوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے وہ ان کے نام پر کیا جانے والا حج اور عمرہ ہے، اگر وہ شخص جب زندہ ت تھا اور اس نے اپنی طرف سے ایک بار حج اور عمرہ کیا ہوا ہو۔
مرنے والے کی طرف سے اس کا کیا ہوا وعدہ پورا کرنا
انسان اپنی زندگی میں بیشتر مقامات پر کسی نہ کسی سے کوئی وعدہ ضرور کرتا ہے اور کبھی کبھی موت اس کو اتنی مہلت نہیں دیتی کہ وہ اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کر سکے تو ایک اور چیز جس سے متوفی کو فائدہ ہوسکتا ہے وہ ہے اس کی طرف سے اس کی حیاتی میں کیا جانے والا وعدہ ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ (ادائےگی سے پہلے ہی) وفات پاگئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو وہ اسے پورا کرتیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔
صحیح بخاری 7315
مرنے والے کے نام پر قربانی
ایک اور چیز جس سے کسی متوفی کو فائدہ ہوسکتا ہے وہ ہے اگر اس کا رشتہ دار اپنی کسی بھی قربانی میں مرنے والے کا حصہ مختص کر دے تو اس کی روح کو بھی ثواب پہنچایا جا سکتا ہے
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی پیش کی تو انہوں نے کہا
اللہ کے نام پر، اے اللہ، محمد کی طرف سے اور محمد کے اہل خانہ اور محمد کے کنبے میں زندہ اور مردہ دونوں کی طرف سے
مسلم 1967
نمایاں تصویر: ویکی میڈیا کامنس