متاثر کن مسلم خواتین: عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں

میں نبی صلی اللہ علیہ والہ سلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ آپ کے لیے سب سے زیادہ محبوب شخص کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ سلم نے فرمایا عائشہ۔ میں نے پوچھا، مردوں میں؟ آپ ‎صلی اللہ علیہ والہ سلم نے فرمایا عائشہ کے والد۔

حضرت عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی، 614 عیسوی میں مکہ میں پیدا ہوئیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی آسمانوں پر طے کی گئی تھی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم نے فرمایا اے عائشہ مجھے خواب میں دو مرتبہ تم دکھائی گئیں  ایک شخص (جبرائیل) تمہاری صورت حریر کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہے میں نے جو اس کپڑے کو کھولا تو اس میں تم تھیں۔ میں نے خیا ل کیا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کر کے رہے گا۔

یہ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ہی تھیں جنہوں نے جضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کرنے کا مشورہ دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیسری بیوی تھیں۔ وہ نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان سے بہت محبت اور شفقت تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار خیال کرتے تھے۔ ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ وہ ان سے اپنی محبت کو کیسے بیان کریں گے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ایک مضبوط پابند گرہ کی طرح۔ جتنا آپ کھینچیں گے، اتنا ہی مضبوط ہوتا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اکثر کھل کر پوچھتی تھیں، گرہ کیسی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب دیتے، اتنا ہی مضبوط جتنا پہلے دن تھا (جب آپ نے پوچھا تھا)۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مختلف مہمات اور سفروں میں شامل ہوئیں۔ ایک بار وہ ایک قافلے کے ساتھ سفر کر رہی تھیں اور سفر کے دوران حادثاتی طور پر قافلے سے الگ ہو گئیں اور صحرا میں پھنس گئیں۔ بعد میں ان کی ملاقات صفوان بن موتال سے ہوئی جن کا فرض بچ جانے والا کھانا جمع کرنے کے لیے قافلے کے پیچھے پیچھے جانا تھا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہچان لیا اور انہیں اپنے اونٹ پر سوار ہونے کو کہا، وہ خود اونٹ کے ساتھ چل رہے تھے اور پھر وہ قافلے میں شامل ہوگئے۔ منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا اور ان پر الزام لگایا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اس جھوٹے الزام سے بچا لیا۔ سورہ النور میں اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بے گناہی کی تصدیق کی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 11 ھ میں بیمار ہوئے اور اس بیماری کے دوران انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحبت کو ترجیح دی۔ وہ صرف اٹھارہ سال کی تھیں جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فانی دنیا کو چھوڑ دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے مرض الوفات میں گویا اجازت لینا چاہتے تھے (دریافت فرماتے) آج میری باری کن کے یہاں ہے۔ کل کن کے یہاں ہو گی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کے متعلق خیال فرماتے تھے کہ بہت دن بعد آئے گی۔ چنانچہ جب میری باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس حال میں قبض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میرے ہی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن کئے گئے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں دفن کیا گیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آخری سانس لیا تھا۔ دو سال بعد، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ دفن کیا گیا۔ بعد میں، حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے درخواست کی کہ ان کی وفات کے بعد، انہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس دفن کیا جائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حقیقت میں وہ جگہ اپنے لئے محفوظ کرلی تھی کیونکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش رکھتی تھیں۔ تاہم، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اتفاق کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حصرت عمر رضی اللہ عنہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریبی دوست اور ساتھی تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک بہت ذہین اور مشاہدہ کرنے والی نوجوان لڑکی تھیں جن کی تیز یادداشت تھی۔ جوانی میں ہی وہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگہداشت اور توجہ میں آئیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے نو سال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گزارے، جس میں انہوں نے اپنا زیادہ تر علم براہ راست اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حاصل کیا۔ حصرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن مجید کی ایک بڑی تعداد کو حفظ کیا، اور انہوں نے اسلامی تاریخ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نجی اور عوامی زندگی کی تفصیلات میں بھی دو ہزار سے زیادہ احادیث بیان کرتے ہوئے مدد کی۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تعلیم اور سماجی اصلاحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی رہنمائی میں ان کے تقریبا دو سو طلباء تھے، جن میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابو موسی اشاری رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔

چوتھے خلیفہ، حظرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اونٹ کی لڑائی میں حصہ لیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ پچھلے خلیفہ حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اگرچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جنگ ہار گئیں، ان کی شمولیت اور عزم نے دیرپا تاثر چھوڑا۔ اس کے بعد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ واپس چلی گئیں اور سیاست میں اپنے عوامی کردار سے سبکدوش ہوگئیں۔ اپنی زندگی کے آخری دو سالوں میں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا زیادہ تر وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیغام کو پھیلانے اور اسلامی قانون کی تشکیل میں صرف کیا۔

وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سینتالیس سال زندہ رہیں، اور سڑسٹھ سال کی عمر میں 17 رمضان، 58 ھ (16 جولائی، 678 عیسوی) کو جہان فانی سے پردہ فرما گئیں۔ انہیں جنت البقیع قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی آخری رسوموات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ادا کی تھیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی علمی شراکت کے ساتھ ساتھ ان کے متقی طرز زندگی سے بھی انہوں نے ام المومنین میں ایک خاص درجہ حاصل کیا، یہ اعزاز کی اصطلاح ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویوں کو دیا گیا ہے

پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں.

حوالہ جات

صحیح بخاری، جلد 5، کتاب 57، نمبر 14۔
صحیح بخاری، جلد 7، کتاب 62، نمبر 15۔
صحیح بخاری، جلد 7، کتاب 62، نمبر 64۔
قرآن 11-21: 24(سوہ النور)۔
صحیح بخاری، جلد 2  کتاب 23، نمبر 471۔
قرآن 33:06 (سورہ الاحزاب)۔

نمایاں تصویر: متاثر کن مسلم خواتین: عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا