اسلام کے ابتدائی دنوں سے ہی مسلم خواتین کمیونٹی میں سرگرم رہنما رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ آئکسا الحورہ ایسی ہی ایک خاتون تھیں جو اپنی بہادری اور قائدانہ صلاحیتوں کے لئے جانی جاتی تھیں۔ ان کا تعلق اس دور سے تھا جب سپین میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہو رہی تھی۔
عائشہ بنت محمد بن الاحمر نامی یہ خاتون اپنے ہسپانوی نام آئکسہ الحورہ سے زیادہ معروف تھیں جس کا مطلب معزز عائشہ ہے۔ وہ محمد ۹ کی بیٹی اور ناسرد خاندان سے گریناڈا کے گیارہویں امیر یوسف ۴ کی پوتی تھیں۔
متاثر کن مسلم خاتون: آئکسا الحورہ
آئکسہ الحورہ کی ابتدا میں محمد الیون سے شادی ہوئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد آئکسا نے ابو الحسن علی (جو مولے ہکین کے نام سے زیادہ معروف ہیں) سے شادی کی۔ آئکسا اور مولے ہکین کے تین بچے تھے: بوابدیل (اصل نام ابو عبداللہ)، یوسف اور آئکسا۔
آئکسا الحورہ سیاسی طور پر سرگرم خاتون تھیں اور انہوں نے امارت گریناڈا کے آخری سالوں کے دوران ریاست کی پالیسی پر بہت اثر ڈالا۔وہ ذاتی طور پر کئی محلات اور جائیدادوں کی مالک تھیں۔ تاہم ان کے شوہر مولے ہکین اپنے دور کے دانشمند امیر نہیں تھے۔ وہ ایک کیتھولک عورت سے مرعوب ہو گئے اور جب کیتھولک حملہ آوروں نے گریناڈا پر حملہ کیا تو مولے ہیکن کہیں نہیں ملے۔
اسی موقع پر آئکسا نے سارا نظام سنبھالا اور اپنے بیٹے بوابدیل کو تخت پر بٹھا دیا۔ یہ مولے ہیکن کے خلاف نافرمانی کا عمل تھا کیونکہ وہ بوابدیل کو گریناڈا کا امیر نہیں بنانا چاہتا تھا۔ درحقیقت آئکسا اور بوابدیل کو ٹاور آف کومارس میں قید کر دیا گیا تھا لیکن آئکسا نے سخت مقابلہ کیا اور بالآخر بوابدیل کے لیے امارت حاصل کر لی۔
یقیناً یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوا۔ بوابدیل کی فوجیں گریناڈا کے زوال کو روکنے میں ناکام رہیں۔ فرڈیننڈ اور ازابیلا کی قیادت میں کیتھولک افواج نے 1483ء میں لوسینا کی جنگ میں بوابدیل کو شکست دی۔ مذاکرات شروع ہوئے اور گریناڈا کے لئے نتائج زیادہ امید افزا نہیں تھے۔ بالآخر اسپین میں اسلام کا آخری نمائندہ گریناڈا حملہ آوروں کا شکار ہو گیا۔
اس کے بعد آئکسا نے اپنے بیٹے بوابدیل کا پیچھا کیا اور 1492-1493 میں گریناڈا چھوڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب بوابدیل کو کیتھولک حکمرانوں نے گریناڈا سے نکال دیا تو اس نے اپنی امارت پر آخری نظر ڈالی، اللہ اکبر کہا اور رونے لگا۔ اسی موقع پر آئکسا الحورہ نے تلخ لہجے میں کہا: تم اس چیز کے لئے عورت کی طرح روتے ہو جس کا تم مرد کی طرح دفاع نہیں کر سکے!
نتیجہ
گریناڈا کے زوال کے لئے بوابدیل کو مورد الزام ٹھہرانا آسان ہوسکتا ہے۔ تاہم، یہ اکیلی اس کی غلطی نہیں تھی۔ کئی دہائیوں اور صدیوں کی بدعنوانی، سازشوں اور لڑائی نے اسپین کو کمزور کر دیا تھا۔ مسلم ریاستیں اور امارات آپس میں لڑنے کے لئے بے چین تھے اور کچھ نے بعض اوقات حملہ آوروں کا ساتھ بھی دیا!
کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی حکومت میں سپین زبردست نمونہ تھا۔ یہودیوں کو جب یورپ کے باقی حصوں سے نکالا جاتا تھا تو انہیں اکثر اسپین میں پناہ مل جاتی تھی۔ درحقیقت آئکسا الحورہ خود ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے جنگ کے دوران گریناڈا کے رہائشی کیتھولکوں کے خلاف مظالم کی روک تھام کی تھی۔ آئکسا الحورہ ایک پرجوش، حوصلہ مند اور مضبوط دل کی عورت تھیں۔ ان کا کبھی ہار نہ ماننے والا رویہ تھا۔ وہ آخر تک لڑنا چاہتی تھیں۔ وہ گریناڈا کے نقصان سے تلخ ہو گئی تھی، لیکن وہ ہار ماننے کو تیار نہیں تھیں۔ وہ بہادر تھیں اور جانتی تھیں کہ کب کونسا موقف اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کے گریناڈا کا امیر بننے کے حق کے لئے جدوجہد کی۔ وہ اپنے شوہر کے خلاف کھڑی ہوئیں اور گریناڈا کی بھلائی کا ساتھ دیا۔ اس کے باوجود، وہ اپنے بیٹے سے دور نہ ہوئیں جبکہ وہ جانتی تھیں کہ گریناڈا چلا گیا ہے۔
آئکسا الحورہ، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ایک متاثر کن مسلمان عورت کے طور پر جانی جاتی ہیں جن میں خطرے کے باوجود ثابت قدم کھڑے ہونے کی ہمت تھی۔
نمایاں تصویر: الحمبرا محل کی دیوار پر موزیک- پکسابے ڈآٹ کام