متاثر کن مسلم خاتون: فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹیوں کے بارے میں جاری سیریز کی اس آخری قسط میں ہم ان کی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

حضرت فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔ وہ پانچ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں جب اللہ نے انکے والد کو نبوت سے نوازا تھا۔

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، اس لیے جس نے اسے ناحق ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ابتدائی سال اپنے والدین کی محبت اور شفقت میں گزارے۔ ایک نوجوان لڑکی کے طور پر، وہ بہت حوصلہ مند تھیں۔ ایک دن وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ المسجد حرام گئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے لگے تو قریش کے کچھ لوگوں کا ایک گروہ وہاں جمع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گندگی پھینک دی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا وہاں کھڑی تھیں اور اپنے والد کو ابو جہل، عقبہ اور شیبہ جیسے برے آدمیوں کے حملوں سے بچایا۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں سجدہ کر رہے تھے اور ان کے آس پاس قریش کے کچھ لوگ تھے، عقبہ بن ابو معیت ایک اونٹ کا جنین لایا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت پر پھینک دیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر نہیں اٹھایا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ سے ہٹایا اور اسے ٹھیک کردیا جس نے یہ بدصورت عمل کیا تھا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی ہمدرد اور نرم مزاج فطرت کے لئے مشہور تھیں۔ وہ بے لوث اور غریبوں اور مساکین کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتی تھیں۔ وہ اکثر اپنا کھانا دوسروں کو دے دیتیں، چاہے اس انہیں خود بھوکا رہنا پڑے۔

اٹھارہ سال کی عمر میں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی مدینہ میں حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ ان کی شادی بہت خوش کن تھی، اگرچہ اس جوڑے نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انتہائی غربت میں گزارا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے، حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ اور دو بیٹیاں، زینب رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا تھیں۔

خاندانی زندگی میں مصروف رہنے کے باوجود، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا امت کے لئے وقت تلاش کرنے میں کامیاب رہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے احد اور خندق کی لڑائیوں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، جیسے زخمیوں کی دیکھ بھال اور کھانا تیار کرنا۔

سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق بتایا

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمبارک پر چوٹ آئی تھی۔ (جس سے سر پر زخم آئے تھے) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا جس سے خون بہنا بند ہو گیا۔

اپنی زندگی کے آخری حصے میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار ہوگئے۔ آپ ‎صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری دن اپنی اہلیہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں گزارے۔ ایک بار، جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے گئیں، تو وہ خوشی سے اس پر مسکرانے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ لیا، انہیں اپنے قریب کھینچ لیا اور اعتماد میں انہیں کچھ بتایا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ مرض میں اپنی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور چپکے سے کوئی بات ان سے فرمائی تو وہ رونے لگیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلایا اور چپکے سے پھر کوئی بات فرمائی تو وہ ہنسیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق پوچھا۔ تو انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے آہستہ سے گفتگو کی تھی تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کی اس مرض میں وفات ہو جائے گی جس میں واقعی ان کی وفات ہوئی۔ میں اس پر رو پڑی۔ پھر دو بارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے جو بات کہی اس میں آپ نے فرمایا کہ ان کے اہل بیت میں، میں سب سے پہلے ان سے جا ملوں گی۔ میں اس پر ہنسی تھی۔

سن 11 ہجری (632 عیسوی) میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوگیا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا کو چھوڑنے کے چند ہی مہینوں بعد۔

حوالہ جات

صحیح بخاری جلد 5، کتاب 57، نمبر 61۔
صحیح مسلم کتاب 19، حدیث 4422۔
صحیح بخاری جلد 4، کتاب 52، حدیث 159۔
صحیح بخاری جلد 4، کتاب 56، حدیث 820۔

مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟ اس سیریز کے دوسرے حصوں کا مطالعہ کریں

حضرت زینب رضی اللہ عنہا
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا

نمایاں تصویر: متاثر کن مسلم خاتون: فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا