رکن، ارکان کا واحد ہے اور ارکانِ اسلام سے مراد دین کے وہ بنیادی اصول ہیں جن پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ ان پانچ ارکان کو اسلام کی بنیاد کہا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر اٹھائی گئی ہے، اس بات کی شہادت کے اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے (آخری) رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰة دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
بخاری و مسلم
نماز: اسلام کا دوسرا رکن
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں ہر بات کا مکمل اور جامع علم موجود ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو چند اعتقادات دے دینے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ ان کی پوری زندگی کو ان اعتقادات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے عبادات کا ایک نظام مقرر کرتا ہے۔ جو نماز، زکوٰة ، روزے اور حج پر مشتمل ہے۔ نماز کے بارے میں اللہ قرآن مجید میں بیان فرماتا ہے
قائم رکھو نماز اور مت ہو شرک کرنے والوں میں سے۔
سورہ الروم آیت 31
مسلمانوں کے لئے آج تک فرض کی جانے والی پانچ نمازیں اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں۔ یہ واقعہ معراج کے موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفہ کے طور پر عطا کی گئی۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں نماز کی تاکید کا حکم سات سو مرتبہ دیا ہے اور قرآن مجید میں لفظ صلاة ستاسی مرتبہ آیا ہے مزید قرآن میں صلاة اور زکوٰة اکٹھے بتیس مرتبہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے
اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
سورہ البقرہ آیت 43
نماز قائم کرنا
نماز، دینی تربیت کا اہم ترین حصہ ہے اور اس لیے ہر امت پر فرض ہے۔ تمام انبیاء اپنی امتوں کو نماز کی تلقین کرتے رہے ہیں۔ نماز ادا کرنے سے مراد اللہ تعالی کے سامنے پیش ہونے کا ایک ذریعہ ہے جس میں ہم خدا سے ہر قسم کی التجا کر سکتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ خدا ہمیں براہِ راست دیکھ اور سن رہا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں فرمایا ہے
جب تم میں سے کوئی نماز قائم کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے چپکے چپکے بات کرتا ہے۔
بخاری
نماز ادا کرنے کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہیں اس کو نہ پڑھنے والوں سے اللہ بے حد ناراض بھی ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق نماز قائم کرنے والے فلاح پائیں گے اور اسے ترک کرنے والے ذلت و خواری کا شکار ہوں گے۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قیامت کے روز جب ہم سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور اپنے نامہ اعمال اپنے ہاتھوں میں لیے خدا سے رحم کی امید میں کھڑے ہوں گے تو پوچھے جانے والے سوالات کا سلسلہ نماز کے بارے میں پوچھ گچھ سے شروع کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔
سنن نسائی کتاب 5، حدیث 467
قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ جب جہنمیوں سے فرشتے پوچھیں گے کہ ان کے جہنم میں پھینکے جانے کی کیا وجہ ہے تو وہ بتائیں گے
وہ بولے ہم نہ تھے نماز پڑھتے۔
سورہ المدثر آیت 43
قرآن مجید میں نماز قائم کرنے سے متعلق بہت سخت تاکید کی گئی ہے۔ اللہ کو ایک خدا ماننے کے بعد سب سے زیادہ حکم نماز پڑھنے کے بارے میں ہے اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ نماز پڑھنے سے انکار کرنے والوں کے لیے یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ خدا کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں حدیث بیان فرمائی ہے
جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی، اس نے کا کافرانہ روش اختیار کی۔
ترمذی
نماز ادا کرنے کے فوائد
دن میں پانچ مرتبہ جب خدا کا بندہ اس کے سامنے نماز ادا کرنے کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم اسی خدا کے بندے ہیں جس کے سامنے ہم پیش ہوتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں، اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور اسی سے اپنے حالات بیان کر کے مانگتے ہیں۔ بندگی کا یہ احساس انسان کی فطرت میں شامل ہو جاتا ہے اور یوں وہ غلط راستے پر بھٹکنے سے بچ جاتا ہے۔
اللہ کے سامنے پیش ہو کر انسان کے دل میں قربِ الٰہی کا احساس جاگ جاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے، خدا کی رحمت ہمیشہ اس کے ساتھ ہے اور اس بات کا احساس اسے کسی قسم کے بھی بُرے کام میں ملوث نہیں ہونے دیتا اور وہ بہت سی برائیوں سے بچ جاتا ہے۔
نمازوں کے درمیان وقفے میں بھی نماز کا اثر جاری اور ساری رہتا ہے، انسان اس سوچ میں رہتا ہے ابھی تو نماز میں خدا سے اپنے کردہ گناہوں کی معافی مانگ کر آیا ہوں اور اب اگر کوئی غلط کام کیا تو کچھ دیر بعد پھر سے بارگاہ الٰہی میں پیش ہونا ہے تو ندامت سے کیسے یہ کر سکوں گا۔ اس سوچ سے انسان برائی کو مات دینے میں کامیاب رہتا ہے اور اپنے نامہ اعمال میں نیکیاں شامل کر لیتا ہے۔
نماز باجماعت ادا کرنے سے آپس میں یگانگت کا احساس پیدا ہوتا ہے، ایک دوسرے سے مل کر ان کے حالات جاننے کا موقع ملتا ہے اور اس طرح انسانوں میں بھائی چارا دیکھا جا سکتا ہے۔
اجتماعی طور پر جمعہ اور عیدین کی نماز کو ادا کرنے کا بہت ثواب ہے۔ مسلمان جب ایک امام کے پیچھے کندھے سے کندھا ملا کر ہر قسم کے رنگ، نسل، قوم کے امتیازات کو مٹا کر نماز ادا کرتے ہیں تو عملی مساوات کا ثبوت دیتے ہیں اور فکری وحدت کو ترک کر دیتے ہیں۔
نماز ہمیں ہر قسم کی برائی سے روکتی ہے اور ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دن بھر میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے میں زیادہ سے زیادہ دو گھنٹوں کا وقت مختص ہوتا ہے جو کہ چوبیس گھنٹوں کا ایک چوتھائی حصہ بھی نہیں بنتا۔ لہذا ہمیں نماز ادا کرنے میں کوئی غفلت نہیں برٹنی چاہیے اور اسے وقت پر ادا کر کے اپنا فرض پورا کرنا چاہیے۔
چاہے ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں لیکن نماز جوکہ فلاح کا راستہ ہے اور اس کو ادا کرنے کے لیے دن میں پانچ بار ہمیں پکارا جاتا ہے، ہر صورت ادا کرنی چاہیے کیونکہ اسی میں ہماری بھلائی ہے اور اس طرح سے اللہ بھی ہم سے راضی رہتا ہے۔
اللہ ہم سب کو وقت پر نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
نمایاں تصویر: پکسابے