مشہور شخصیات کی پیروی
آج کل ہمارے لئے فلمی ستاروں، گلوکاروں، کھلاڑی اور دیگر مشہور شخصیات کی طرف تحریک کے لئے دیکھنا بہت عام ہو گیا ہے۔ ہمیں کسی خاص مشہور شخصیت کے مداح ہونے پر بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔
Active editorial operations for the Urdu edition of Muslim Memo ceased in 2026. You are browsing the archives; current work continues at MuslimMemo.com
آج کل ہمارے لئے فلمی ستاروں، گلوکاروں، کھلاڑی اور دیگر مشہور شخصیات کی طرف تحریک کے لئے دیکھنا بہت عام ہو گیا ہے۔ ہمیں کسی خاص مشہور شخصیت کے مداح ہونے پر بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔
دنیا بھر کے بہت سارے مسلمان اپنے مذہب کی عظمت سے بے خبر رہتے ہوئے اجنبی خیالات اور نظریات کو اپنانے کے خواہاں ہیں۔ تاہم، اب وقت آگیا ہے کہ ہم رہنمائی کے لئے قرآن کی طرف رجوع کریں۔ کیا ہمیں مشہور شخصیات کی عادات اور افعال کی بجائے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور سنت کی تقلید کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے؟
پچھلے کچھ ہفتوں میں ٹی وی چلانے سے ہم ایک ہی خبر سے متاثر ہوئے ہیں جو کہ محمد کے خاکوں کی خبریں ہیں۔ پہلے یہ ٹیکساس میں مقابلہ ہوا۔ پھر واشنگٹن، ڈی سی میٹرو سسٹم پر ڈرائنگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ اب فینکس میں ریلی ہے۔
ہم اکثر اوقات سیرت کو ان کتابوں میں پاتے ہیں جہاں بعض اوقات اس کا ذکر حقیقت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جب ہم کسی اور حقیقت کو پڑھتے ہیں تو ہم اس کو بے ساختہ پڑھتے ہیں، یہ محسوس نہیں کرتے کہ سیرت کی بہت اہمیت ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان تمام حقائق سے گزرنا پڑا۔ سیرت کے بارے میں جاننے کا مطلب صرف کتاب پڑھنا نہیں ہے، اس میں غور و فکر کرنا، اور اس سے سبق حاصل کرنا اور اپنی زندگی میں ان اسباق کا اطلاق کرنا شامل ہے۔ اس کے لئے روحانی تعلق اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو بیت اچھے سے جاننا ہے۔
رمضان المبارک کے آخری دس دن بہت خاص ہوتے ہیں۔ یہ رمضان المبارک کا عظیم الشان اختتام ہے اور ان لوگوں کے لئے نجات کا موقع ہے جو، وہ سب کچھ مکمل نہیں کر سکے جو وہ پہلے کرنا چاہتے تھے۔