پانچ وجوہات جن کے باعث مسلمانوں کو سفر کرنا چاہیے

ابو ہریرہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

تین دعا قبول کی جاتی ہیں، ان کے قبول ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور اپنے بیٹے کے خلاف باپ کی دعا۔

مسافر کو اتنا بلند مرتبہ بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں سفر کا مقصد بہت بلند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو سفر کے دوران ایک مخصوص ادب (طرز عمل کے اصولوں) کی پابندی کرنی چاہیے، ہمیں اپنی اور ان لوگوں کی جو ہمارے گھر میں ریتے ہیں اور جن سے ہم سفر میں ملتے ہیں، ذمہ داری سے آگاہ ہونا چاہیے۔ تاکہ اللہ کی نعمت ہر جگہ ہمارے ساتھ رہے۔ وہ پانچ وجوہات جن کے باعث مسلمانوں کو سفر کرنا چاہیے درجہ ذیل ہیں۔

حج (یا عمرہ)

اس سفر کا براہ راست تعلق اسلام کے بہت سے روحانی پہلوؤں سے ہے اور حج تو اسلام کا ایک ستون بھی ہے۔ عمرہ بھی اسلام کے روحانی اعمال میں سے ایک ہے۔ دونوں رسومات ان مقامات کے سفر پر مشتمل ہیں جہاں اسلام کو ایک مذہب کے طور پر قائم کیا گیا تھا یعنی کہ مکہ۔حج اور عمرے میں نقل و حرکت اور سفر سے متعلق بہت سی رسومات بھی شامل ہیں مثلا خانہ کعبہ کے ارد گرد طواف، منیٰ، کوہ عرفات اور مزدلفہ کا سفر۔ ان میں سے ہر رسم کے دوران حاجی کی عکاسی ہوتی ہے۔

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی ترغیب دی کیونکہ انہوں نے اسے علم حاصل کرنے کا طریقہ دیکھا۔ خود حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے سفر یا میراث جیسے روحانی سفر کا تجربہ کیا جب وہ سات آسمانوں پر گئے تو ان انبیاء سے ملے جو ان سے پہلے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے اور انہیں اللہ کی طرف سے روزانہ کی نماز کا حکم بھی ملا۔ یہ سفر جو اکثر علما کے مطابق ہجرت مدینہ سے پہلے ہوا تھا، اس کا مقصد ان کی نبوت پر ان کے عزم اور ایمان کو مضبوط کرنا تھا۔ اس کے علاوہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے جواں سال سفر میں گزارے۔ وہ پورے مشرق وسطیٰ میں تجارتی قافلوں کے ساتھ جاتے تھے۔ ان دوروں نے احترام کرنے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کی صلاحیت پر بہت اثر ڈالا۔

روایت

صدیوں سے مسلمانوں کی روایت رہی ہے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں۔ ایک مشہور مسافر ابن بطوطہ تھا جو مراکش میں پیدا ہوا اور تیس سال تک سفر کرتا رہا۔ مسلمان علما نے بھی علم کی جستجو میں طویل فاصلے طے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پیغمبروں نے روحانی سفر کیے جس سے ان میں بہت تبدیلی آئی اور ان کے حوصلے مضبوط ہوئے۔

روحانیت

اس دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم اجنبی ہو یا مسافر

یہ مادی دنیا سے لگاؤ کے بارے میں حدیث ہے۔ نتیجتے کے طور پر اسلام کی ہر روحانی روایت، سفر کو روحانی تعلیم کے حصے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس کے پیچھے حکمت، دنیا کے لئے روح کا اجنبی رویہ اور ابدی زندگی کی گہری تفہیم کی ترقی ہے۔

اللہ سے محبت

سفر کے ذریعے ہم اللہ سے زیادہ باخبر ہو جاتے ہیں، ہم اس کی تمام تخلیقات کو پوری طرح دیکھتے ہیں اور اللہ کے پیدا کردہ پیمانے اور کمال ہمیں یور زیادہ حیران کر دیتا ہے۔ اپنے سفر کے دوران ہم پہلے جو کچھ جانتے ہیں وہ دئتھنے کے بعد واقعی سب اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی زیادہ تعریف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پورے قرآن میں اللہ لوگوں کو ان نشانیوں پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو زمین اور آسمان پر واقع ہیں۔

حوالاجات

سنن الترمذی: جلد 4، کتاب 1، حدیث 1905

صحیح البخاری: جلد 8، کتاب 76، حدیث 425

نماہاں تصریر: خانہ کعبہ