قرآن مجید کے معجزات

قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی آخری آسمانی کتاب ہے۔ یہ کتاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردہ معجزہ ہے، جو تئیس سال کے عرصے میں حالات اور واقعات کے پیشِ نظر آہستہ آہستہ نازل ہوئی۔ اس کتاب میں اللہ نے ہر طرح کی بات، انبیاء کی کہانیاں، مسائل کا حل، اسلام کا پھیلاؤ، صحابہ کی زندگیاں، اور بھی دیگر واقعات بیان کیے ہیں۔ یہ کتاب زندگی کے ہر پہلو میں مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

قرآن مجید کے معجزات

ہمیشہ رہنے والی کتاب

اللہ نے قرآن مجید اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے نازل فرمایا۔ اللہ نے قرآن کی ذمہ داری خود اٹھانے کا وعدہ کیا۔ یہ کتاب قیامت تک محفوظ رہنے والی کتاب ہے اور اس بات کی بھی یقین دہانی اللہ نے خود کروائی ہے۔ اس لیے قرآن کسی بھی قسم کی ردوبدل کے بغیر موجود ہے جبکہ دیگر آسمانی کتابوں میں لوگوں کی جانب سے کافی ردوبدل ہو چکی ہے اور وہ بالکل اصل حالت میں موجود نہیں ہیں۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں

سورة الحجر آیت 9

جامع علم والی کتاب

قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس میں تمام علوم موجود ہیں۔ جیسا کہ پرانی آسمانی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یا تو ان میں تاریخی واقعات ہیں یا تو فقہی مسائل کا حل، یا ان میں دعائیں اور مناجات ہیں یا پھر عقائد کا بیان۔ قرآن مجید کو دیکھا جائے تو اس میں تاریخی واقعات کا مجموعہ، دعائیں، مناجات، عقائد و اعمال کا بیان، فقہی مسائل اور اخلاق و روہانیت کا درس سب شامل ہیں۔ بیالوجی، کیمسٹری، فزکس، فلکیات اور ریاضی جیسے مضامین میں سے بھی بہت سی معلومات قرآن مجید سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

زندہ زبان والی کتاب

قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا اور یہ ایک زندہ زبان ہے۔ آج بھی دنیا میں موجود بیس سے زائد ممالک کی قومی زبان عربی ہے جبکہ دوسری الہامی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئی وہ اب مردہ ہو چکی ہیں۔

اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔

سورة فصلت آیت 44

عالمگیر کتاب

قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو بنی نوع انسان کے لیے اتاری گئی۔ کسی خاص قوم، ملک یا سلطنت یا پھر محض مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل سے لے کر آج تک کے تمام انسانوں کے لیے یہ ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ اللہ نے اس کتاب میں يَا أَيُّهَا النَّاسُ  کہہ کر اپنے کلام میں مخاطب کیا ہے، جس کے معنی ہیں- اے لوگو۔ جدید دور میں بھی پیش آنے والے تمام مسائل کا حل یس کتاب سے مل سکتا ہے۔ یہ ہر دور کے انسان کے لیے پیغامِ الٰہی ہے۔

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

سورة ص آیت 29

حفظ کرنے میں آسان کتاب

قرآن مجید اللہ کی طرف سے معجزے کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ اسی لیے اللہ قرآن مجید کے طالب پر بھی معجزہ فرماتا ہے اور اس حفظ کرنے میں آسان بنا دیتا ہے تاکہ حافظِ قرآن کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو چاہئے کے وہ کتاب اللہ کا مطالعہ کریں اور اس کے حافظ بن جایئں۔ اللہ قرآن مجید میں خود فرماتا ہے

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

سورة القمر آیت 17

شک و شبہ سے بالاتر کتاب

اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب کسی بھی شک و شبہ سے پاک بنائی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کامل ترین خدا کی ذات کسی بھی چیز میں کوئی غلطی کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں! یہ تو فصاحت اور بلاغت کا شاہکار ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ قرآن مجید میں ان سب لوگوں کو کھلے عام دعوت دیتا ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لکھا ہے (نعوزباللہ) کہ وہ آیئں اور خود اس طرح کا کلام بنا لائیں لیکن کوئی بھی آج تک ایسا نہ کر سکا کیونکہ ظاہر ہے کسی بشر کی کیا اوقات کہ وہ یہ کلام لکھ سکے، یہ تو محض خدا یہ لکھ سکتا ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے۔

کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن از خود بنا لیا ہے بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے۔ اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں۔

سورة الطور آیت 33،34

سچے انکشافات والی کتاب

قرآن مجید میں تاریخ کی جتنی بھی باتیں موجود ہیں وہ سب ایک کے بعد ایک دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ چاہے وہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہو یا فرعون کی لاش۔ قرآن مجید نے آنے والے وقت کے بارے میں جتنے بھی انکشافات کیے ہیں ان میں سے کئی پورے ہو چکے ہیں اور کئی انقریب پورے ہو جائیں گے جیسا کہ سائنس بھی ان کی تصدیق کر چکی ہے۔

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔ پھر تم کدھر جا رہے ہو۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ (یعنی) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔ اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العالمین چاہے۔

سورة التكوير آیت 25-29

حق بیان کرنے والی کتاب

قرآن مجید تمام تر تہذیب و عقل کی تائید کرتا ہے۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کی دلیل نہ دی جا سکے۔ کوئی بھی خلافِ عقل بات اس میں نہیں مل سکتی کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے اور اس میں کسی قسم کی رد و بدل نہیں ہوئی۔ دیگر آسمانی کتابوں میں لوگوں کی جانب سے بہت سی غلط معلومات ڈال دی گئی ہے جس کی دلیل نہیں مل سکتی اس لئے ان قرآن ایک ایسا اعجاز ہے جو پچھلی کتابوں کو منسوخ کرتا ہے اور اپنے اندر ہی تمام قسم کی معلومات رکھتا ہے۔

 اور یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے۔ اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے۔

سورة فصلت آیت 41،42

نمایاں تصویر: قرآن مجید- پکسابے