رجب میں بیج بونا، رمضان میں فصل کاٹنا

ہم پہلے ہی رجب کے مہینے میں ہیں۔ رجب کو قرآن میں چار مقدس مہینوں میں سے ایک کے طور پر اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ جب یہ مہینہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خاص دعا کرتے تھے کہ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَب، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ  — اے اللہ!رجب اور شعبان میں ہمیں برکت دے اور ہمیں رمضان تک پہنچادے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تینوں مہینوں کو ایک ساتھ جوڑا اور رمضان سے پہلے کے دو مہینوں میں اللہ کی خصوصی نعمتوں کی تلاش کی۔رجب کا تعلق اصل لفظ رجبہ سے ہے جس کے معنی ہیں احترام کرنا۔

تاریخ میں بے شمار واقعات ہیں جو ماہ رجب کے دوران پیش آئے۔چند قابل ذکر ہیں

سب سے اہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معراج۔ یہ واقعہ رجب کی ستائسویں رات کو پیش آیا۔

حضرت بلال رضي الله عنه چار سو آدمیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آۓ اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔

‎سلطان صلاح الدین نے یروشلم پر قبضہ کیا۔

اس مقدس مہینے میں اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اللہ کی راہ میں دل کھول کر صدقہ دینا اور خرچ کرنا قابل ستائش ہے۔اس مہینے میں عبادت میں مشغول ہونا قابل ستائش ہے۔اس مہینے میں روزے رکھنا بھی قابل ستائش ہے۔ امام ابوداؤد کی سنن میں ایک حدیث درج ہے جس میں یہ خبر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرمت والے مہینوں کے کچھ دن روزہ رکھو اور دوسروں میں نہیں۔ جیسا کہ ہم عاشورہ (محرم) کے دنوں میں روزے رکھتے ہیں اور جیسا کہ ہم ذوالقدہ اور ذوالحجہ کے دنوں میں روزے رکھتے ہیں، اسی طرح رجب کے دنوں میں بھی روزے رکھنا قابل ستائش ہے۔

پس اس مہینے میں روزے رکھنا سنت ہے۔ تاہم اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس مہینے میں روزے رکھنے کے دو ماہ بعد آنے والے رمضان المبارک کے روزے متاثر نہ ہوں۔بعض لوگوں کے نزدیک اس مہینے میں روزے رکھنے سے ان کی صحت متاثر ہوسکتی ہے کہ وہ بیمار پڑ سکتے ہیں اور رمضان میں روزے رکھنے سے قاصر ہو سکتے ہیں۔اگر کسی کو یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا تو وہ روزے رکھ سکتا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  رجب میں اس قدر روزے رکھتے تھے کہ صحابہ کو لگتا تھا کہ وہ کبھی روزہ نہیں توڑیں گے اور اسی طرح اس مہینے میں روزہ نہ رکھتے تھے کہ صحابہ کا خیال تھا کہ وہ (پھر اس مہینے میں) روزہ نہیں رکھیں گے۔

جبرائیل علیہ السلام نے شب مراج میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رجب نامی دریا کے بارے میں بتایا کہ جو شخص رجب کے مہینے میں روزے رکھتا ہے اور رسول اللہ پر صلاوات بھیجتا ہے تو وہ اس دریا کا پانی پیے گا۔

لہذا ہم رمضان میں زیادہ فصل کاٹنے کے لئے رجب میں بیج بونا شروع کرسکتے ہیں۔ہم اللہ سے اس کی اس ماہ میں خصوصی رحمتیں مانگتے ہیں۔ تمام مہینے اس کے ہیں اور مقدس مہینے بھی اسی کے ہیں جن میں سے یہ ایک ہے جو رمضان سے جڑا ہوا ہے۔ چنانچہ ہم رجب کے بعد رمضان کے مبارک مہینے میں اللہ سے خصوصی رحمتیں مانگتے ہیں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمیں رمضان تک پہنچائے۔

نمایاں تصویر : رجب میں بیج بونا، رمضان میں فصل کاٹنا