رقیہ شرعیہ کرنے کا صحیح طریقہ

رقیہ شرعیہ سے مراد شرعی دم ہے۔ کسی بیماری کی حالت میں یا پھر کسی بھی درد یا چوٹ کی جگہ پر اس کو کرنے سے اللہ کے حضور شفا عطا ہوتی ہے۔ رقیہ شرعیہ کو کرنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقے استعمال ہوتے ہیں۔

قرآن کی سورتوں سے

سورہ الناس اور سور الفلک کی تلاوت کر کے، اپنے ہاتھوں میں پھونک دیں اور وہ اپنے جسم پر مسح کریں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات ( سورۃ الاخلاص ، الفلق اور الناس ) کا دم کیا کرتے تھے ۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کا دم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی ۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے ، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔

صحیح بخاری 5735

درد یا چوٹ کی جگہ کا علاج

درد یا چوٹ کی جگہ پر رقیہ شرعیہ کا اطلاق کرنے کے لئے زمین کی ریت یا مٹی کو اپنے تھوک کے ساتھ ملائیں اور متاثرہ جگہ پر لگائیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اطلاع دی کہ جب کوئی شخص کسی بیماری میں مبتلا ہوا یا اسے کوئی بیماری ہو گئی یا اسے کوئی چوٹ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی زمین پر رکھی اور پھر اللہ کا نام پڑھ کر اسے اٹھا لیا اور فرمایا۔

ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ زمین کی دھول ایک ایسے ذریعہ کے طور پر کام کرے گی جس کے ذریعہ اللہ کی منظوری سے ہماری بیماری ٹھیک ہوجائے گی۔

صحیح مسلم 2194

دائیاں ہاتھ درد والی جگہ پر رکھیں اور مندرجہ ذیل دعا پڑھیں

اللہ کے نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

اپنا ہاتھ اس جگہ پر رکھیں جہاں آپ اپنے جسم میں درد محسوس کرتے ہو اور بسم اللہ کہتے رہو تین بار اور سات بار یہ کہ- میں اللہ کے ساتھ اور اس کی قدرت کے ساتھ اس برائی سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے ملتی ہے اور مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔

صحیح مسلم 2202

سورہ الفاتحہ سے رقیہ

سورہ الفاتحہ کی بطور رقیہ تلاوت کریں، اپنا تھوک جمع کریں اور پھر شفا بخش ہونے کے لئے اس جگہ پر تھو لگائیں۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزر ے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظورکر لیں پھر (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) سورۃ الفاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ الفاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔

صحیح بخاری 5736

اللہ سے دُعا کر کے رقیہ کرنا

ہم صرف اللہ سے دُعا کر کے بھی رقیہ انجام دے سکتے ہیں

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جبرائیل نے پوچھا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا: ہاں، جبرائیل نے کہا: «باسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس وعين حاسد باسم الله أرقيك والله يشفيك» ”میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذاء پہنچا رہی ہے، ہر نفس کے شر سے اور ہر حاسد کی آنکھ سے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفاء عطا فرمائے گا“۔

جامع الترمذی 972

پانی سے رقیہ کرنا

ہم قرآن کی آیات کو پانی پر بھی پڑھ کر پھونک سکتے ہیں، پھر اسے پی سکتے ہیں اور اس پانی سے غسل بھی کر سکتے ہیں۔

ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا، وہ بولتا نہیں تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا ( آسیب ) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا سا پانی لاؤ، پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا: اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، (تو اچھا ہوتا) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے، اور اسے ایسی عقل آ گئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔

سنن ابن ماجہ 3532

حوالہ: انسٹاگرام

نمایاں تصویر: پکسلز