صحیح بخاری کی اہمیت اور خصوصیات

صحیح بخاری، صحاحِ ستہ میں سے ایک ہے۔ احادیث کی چھ صحیح ترین کتابوں کو صحاحِ ستہ کہتے ہیں۔ عربی میں صحیح بخاری کے معنی ہیں- ٹھیک، صحیح ترین۔ ابنِ صلاح کے مطابق یہ کتاب، جس کے اردو میں معنی ہیں- جامع، صحیح، مسند، مختصر مجموعہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات اور اوقات سے متعلق خبر فراہم کرتی ہے۔

امام ابو عبداللہ محمد ابنِ اسمٰعیل بخاری رحمة الله‎ علیہ

اسلامی تاریخ کے سب سے عظیم اسکالر امام محمد البخاری کو کہا جاتا ہے۔ یہی کتاب صحیح بخاری کے لکھنے والے ہیں، جس میں انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات، واقعات، الفاظ، اعمال اور عادات بتائی ہیں اور یہ کتاب تاریخ کی سب سے صحیح ترین کتاب مانی جاتی ہے۔ کتاب کے متعدد ابواب ہیں جس میں فقہ کے ساتھ ساتھ دیگر مضامین کے سلسلے میں متعدد امور بھی شامل ہیں۔ اس کتاب میں مذیبِ اسلام کی مکمل رہنمائی فراہم کرنے میں زندگی کے تقریباََ تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ان کا پورا نام ابو عبداللہ محمد ابنِ اسمٰعیل بخاری رحمة الله‎ علیہ ہے اور ازبکستان کے شہر بخارا میں 194ھ (8100ء) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے ان کی پرورش کی اور ان کی تعلیم میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انہوں نے سولہ سال کی عمر سے ہی عباسی خلافت میں وسیع پیمانے پر سفر کیا، ان روایات کو جمع کیا جن کو وہ قابل اعتماد سمجھتے تھے۔

یہ کتاب شائع کرنے کے لئے انہوں نے جلدی نہیں کی اور بہت سارے جائزے لیے۔ اس وقت تک نظرثانی اور تفتیش کی جب تک وہ کوئی حتمی ورژن لے کر سامنے نہیں آئے۔ اور انہوں نے یہ تمام بیانات کو سختی سے جانچنے پر محنت کی۔ انہوں نے حدیث کے راوی کی کہانی کو قبول کرنے کے لئے شرائط طے کیں تھیں، جو اس کو بیان کرنے والوں کے ساتھ ہم عصر تھیں، اور اعتماد، انصاف، نظم و ضبط، مہارت، اور ایمانداری کے ساتھ ساتھ اس شخص سے خود بات بھی سننا ایک شرط تھی۔

احادیث اور اسباق

اس کتاب میں بخاری کے ذریعہ منتخب کردہ چھ لاکھ احادیث میں سے سات ہزار دو سو پچھتر احادیث کو شامل کیا گیا، جن میں کافی احادیث دہرائی بھی گئی ہیں جن کی تعداد تقریباََ دو ہزار دو سو تیس ہے۔ اور یہ ان احادیث کا ذکر ہو رہا ہے جو مسند ہیں، یعنی وہ لوگ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست تعلق رکھنے والے صحابہ سے ہیں جو مستند ہیں۔ مزید برآں یہ کتاب ترانوے اسباق پر تقسیم کی گئی ہے۔ محمد فواد عبد البقی نے بخاری کی احادیث کو ایک تا سات ہزار پانچ سو تریسٹھ، اور اس کی کتابوں کی ایک تا ستانوے تک گنتی کی۔ احادیث کو کتاب کے نام، باب کا نام، اور راوی کے نام سے حوالہ دیا گیا۔

صحیح بخاری کی تعلیم

امام بخاری رحمة الله‎ علیہ نے اپنا کام 232 ہجری کے آس پاس ختم کیا، اور اپنی زندگی کے آخری چوبیس سال دوسرے شہروں میں گزارے، اور انہوں نے جو احادیث جمع کی تھیں ان کی تعلیم سے دنیا کو روشناس کروایا۔ ہزاروں افراد شہر کی مرکزی مسجد میں جمع ہوتے تھے تاکہ بخاری کی روایات کو سن سکیں۔ اس کتاب کی اصل تاریخ اور تصنیف کے بارے میں مغربی تعلیمی شکوک و شبہات کے جواب میں، اسکالرز نے اس وقت کے قابل ذکر حدیث علمائے کرام کی نشاندہی کی، جیسے احمد ابن حنبل، یحییٰ ابن معین اور علی ابن المدینی نے ان کی کتاب کی صداقت کو قبول کیا اور یہ کہ اس مجموعے کی فوری شہرت اس بات کا امکان نہیں رکھتی ہے کہ تاریخی ریکارڈ کے بغیر مصنف کی موت کے بعد اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔

چوبیس سال کے اس عرصے کے دوران، امام بخاری رحمة الله‎ علیہ نے اپنی کتاب، خاص طور پر باب کے عنوانات میں معمولی ترمیم کی۔ ہر ورژن کا نام اس کے راوی نے رکھا ہے۔ ابن حجر الاسکانی نے اپنی کتاب نوکات میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہر ورژن میں حدیث کی تعداد ایک جیسی ہے۔ آج کا سب سے مشہور ورژن الفرابی 320ھ کے ذریعہ بیان کردہ ورژن ہے، جو بخاری کے ایک قابل اعتماد طالب علم تھے۔ اور اب وہیں سے آج تمام طباعت شدہ ایڈیشن اخذ کیے جاتے ہیں۔ الخطیب البغدادی نے اپنی کتاب ہسٹری آف بغداد میں فرابری کے حوالے سے بتایا ہے کہ

تقریباََ ستر ہزار افراد نے صحیح بخاری کو میرے ساتھ سنا ہے۔

صحیح بخاری کی اہمیت اور خصوصیات

البخاری نے صوتی بیانیے کے انتخاب کے لئے دو بنیادی معیارات پر عمل کیا۔ پہلا، راوی کی زندگی کا دورانیہ اس انسان کی زندگی کے دور کے ساتھ ہی ہو جس سے وہ حدیث بیان کرتا ہے۔ دوسرا، یہ بات قابل تصدیق ہونی چاہئے کہ راوی اپنے ماخذ افراد سے ملے ہیں۔ انہیں یہ بھی واضح طور پر بتانا چاہئے کہ انہوں نے ان حکام سے بیانیہ حاصل کیا۔ یہ مسلم ابن الحجاج کے مقرر کردہ معیار سے کہیں زیادہ سخت بات ہے۔

امام بخاری رحمة الله‎ علیہ نے ان بیانات کو صرف ان لوگوں سے قبول کیا جو ان کے علم کے مطابق نہ صرف اسلام پر یقین رکھتے تھے بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل بھی کرتے تھے۔ اس طرح، انہوں نے مرجیوں کے بیانات کو قبول نہیں کیا۔

ابواب کا خاص انتظام اور ترتیب بھی کتاب کی ایک نمایاں خوبی ہے۔ اس سے مصنف کے گہرے علم اور مذہب کے بارے میں ان کی تفہیم کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کتاب نے مذہبی مضامین کو سمجھنے کے لئے ایک اور مفید رہنما بنا دیا ہے۔

صحیح بخاری کے تراجم

سال 1971ء میں صحیح بخاری کا ترجمہ محمد محسن خان نے نو جلدوں میں صحیح البخاری عربی انگریزی کے معنی کا ترجمہ کے عنوان سے انگریزی میں کیا تھا۔ اس کام کے لئے استعمال ہونے والا متن فتح الباری ہے، جسے مصری پریس مصطفیٰ البابی الحلابی نے 1959ء میں شائع کیا تھا۔

سال 2019ء میں، نیویارک میں عربی ورچوئل ٹرانسلیشن سینٹر نے صحیح البخاری کا پہلا مکمل انگریزی ترجمہ مکمل سناد اور تبصرے کے ساتھ شائع کیا گیا۔ انسائیکلوپیڈیا آف صحیح بخاری کے عنوان سے اس کام میں وضاحتی نوٹ، ہر اصطلاح کی ایک لغت، اور تمام کرداروں کی سوانح حیات شامل ہیں۔

یہ کتاب متعدد زبانوں میں بھی دستیاب ہے جن میں اردو، بنگالی، بوسنیا، تامل، ملیالم، البانی، مالائی، ہندی شامل ہیں۔

حوالاجات

صحیح البخاری: ویکی پیڈیا

نمایاں تصویر: صحیح بخاری- ویکیمیڈیا کامنس