یوپی: تین مسلمان لڑکوں کی لاشیں دریا کے کنارے سے برآمد

یوپی میں تین مسلمان لڑکے دریا کے قریب مردہ پائے گئے، اہل خانہ نے قتل کا الزام لگایا۔

دل کو بھڑکانے والے واقعہ میں، تین لڑکوں کی لاشیں، جو منگل کی شام کو دریا میں نہانے گئے تھے، بدھ کے روز اترپردیش کے ضلع بریلی کے علاقے بہیری میں واقع کیچہ ندی میں ملی تھیں، لاشوں پر چوٹ کے نشانات تھے اور ایسا لگتا تھا کہ ان لڑکوں پر بری طرح تشدد کیا گیا ہو۔

اگرچہ پولیس نے بتایا کہ وہ حادثے میں ہلاک ہوگئے، لیکن ضامن علی (سولہ سال)، محمد اوصاف (اٹھارہ سال) اور زید (سولہ سال) کے خاندان کے افراد نے الزام لگایا کہ لڑکوں کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا، گردنیں ٹوٹ گئیں اور لاشوں کو اتنی بری طرح سے مسخ کردیا گیا کہ لاشیں مشکل سے پہچانی گئیں۔

یوپی: تین مسلمان لڑکوں کی لاشیں دریا کے کنارے سے برآمدضامن علی (بائیں جانب اوپر)، محمد اوصاف (بائیں جانب نیچے)، زید (دائیں جانب)

ضامن علی مرحوم، کے بھائی شاداب نے بتایا کہ اس کا بھائی اور دوست ڈوبنے سے نہیں مرے، ایسا لگتا ہے کہ یہ قتل تھا۔

انہوں نے کہا، ان کی لاشیں شدید زخمی ہوگئیں اور ان کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا۔

میرا بھائی ہوشیار لڑکا تھا۔ حالیہ امتحانات میں اس نے ہائی اسکول میں ٹاپ کیا تھا۔ شاداب نے بتایا کہ وہ سب گھر والوں سے اجازت لینے کے بعد دریا میں نہانے گیا تھا۔

شاداب نے بتایا کہ جب وہ لڑکے اسی دن کی شام تک واپس نہیں آئے تو انہوں نے پولیس کو گمشدگی کی درخواست درج کروائی۔

جب بدھ کی صبح مقامی لوگ فارم پر کام کرنے گئے تو انہوں نے دریا میں تین کی لاشیں دیکھیں۔ انہوں نے پولیس کو آگاہ کیا۔ لاشوں پر کپڑے نہیں تھے۔ دریا کے کنارے سے موبائل فون، بائک اور لڑکوں کے کپڑے برآمد ہوئے ہیں۔

اوصاف کے والد محمد شعیب، جو ایک مقامی صحافی ہیں، نے بتایا کہ تمام لڑکے بے قصور تھے اور کسی سازش کے نتیجے میں ان کی موت ہوگئی۔ اوصاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔

وہ یقینی طور پر ڈوبنے سے نہیں مرے تھے۔ ان کی لاشیں خود اس بات کی یقین دہانی کر رہی ہیں، شدید نشانات اور زخموں کا پتہ لاشوں پر لگایا جاسکتا ہے۔ اگر وہ ڈوب گئے تو لاشیں یا تو پیلی پو گئی ہوتیں یا پیٹ میں پانی بھر جاتا۔ کوئی بھی آسانی سے یہ بات کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک قتل تھا۔

اوصاف کے والد شعیب نے بتایا کہ بدھ کی صبح چھ بجے لاشیں برآمد کی گئیں لیکن پولیس نے موقع پر قانونی دستاویز تیار نہیں کیے اور نہ ہی انہوں نے خاندان کے کسی فرد کو فون کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاشوں کو قریبی پولیس اسٹیشن لے جانے کے بجائے، انہوں نے انہیں براہ راست پوسٹ مارٹم ہاؤس بھیج دیا۔

انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو ایک نجی وین میں بریلی کے پوسٹ مارٹم ہاؤس بھیج دیا گیا تھا، جو آم سے بھری ہوئی تھی۔

تینوں لڑکوں کے خاندان کے افراد کو ابتدائی طور پر لاشیں دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ انہیں بریلی کے پوسٹ مارٹم ہاؤس میں دیکھ سکتے تھے، جو ان کے گاؤں سے تقریباً پچاس  کلومیٹر دور تھا۔

شعیب نے بتایا کہ صرف تین گھنٹوں کے بعد، پولیس نے خاندان کے کسی فرد سے مشورہ کیے بغیر ہی ان لڑکوں کے بے رحمانہ قتل کا اعلان کیا۔

بریلی پولیس نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو شائع کی اور کہا، تین لڑکے دریائے کیچہ میں نہانے گئے تھے اور بعد میں نہانے کے دوران ڈوبنے سے ان کی موت ہوگئی۔ واقعے کے علاقے سے ایک موبائل فون اور ایک موٹرسائیکل ملی ہے۔ ہم نے ایک کیس درج کیا ہے۔ مزید تفتیش کے لئے اب لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجا گیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ دن کے ساڑھے چار بجے کے قریب تیار کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں پولیس ورژن کی حمایت کی گئی ہے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ موت کی وجہ پانی میں ڈوب جانا ہے۔ تاہم، شعیب نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے مزید کہا کہ پولیس نے پہلے ہی اعلان کیا تھا اس کے پیش نظر یہ رپورٹ تیار کی گئی تھی۔

متاثرہ افراد کے اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے بہری پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔ شکایت میں، انہوں نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ ان کے لڑکوں کو قتل کیا گیا ہے اور پولیس کو اس زاویے سے اس معاملے کی تفتیش کرنی چاہئے۔ تاہم، شکایت کو اب تک ایف آئی آر میں تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔

ہندوستان میں ہونے والے مسلمانوں کے ساتھ مظالم وقت کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ مسلمان ان مظالم کے نتا‎ئج میں اپنی جانوں کو کھو بیٹھتے ہیں اور انہیں انصاف دلانے والا کوئی نہیں۔

!function(){"use strict";window.addEventListener("message",(function(e){if(void 0!==e.data["datawrapper-height"]){var t=document.querySelectorAll("iframe");for(var a in e.data["datawrapper-height"])for(var r=0;r<t.length;r++){if(t[r].contentWindow===e.source)t[r].style.height=e.data["datawrapper-height"][a]+"px"}}}))}(); 

نمایاں تصویر: مکتوپ