اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے نظامِ معیشت کے بااصول اور بہترین ضابطے عطا فرمائے ہیں۔ اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں زندگی کے ہر قسم کے پہلو کے بارے میں تعلیمات موجود ہیں۔ اسی طرح اگر اللہ کے بتائے ہوئے معاشی نظام پر عمل پیرا ہوا جائے تو معاشرے میں بھی عدل و انصاف برقرار رہتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو معاشرہ فسادات کا شکار ہو جاتا ہے اور نتیجتاً دیگر برائیوں کے جنم کو بھی فروغ ملتا ہے۔
زکوٰة کے معنی پاک کرنے کے ہیں۔ جب انسان اللہ کی مرضی کے مطابق اپنے مال میں سے زکوٰة ادا کرتا ہے تو گویا وہ اپنے مال کو پاک کر لیتا ہے مزید برآں وہ انسان اپنے دل کو دولت کی ہوس سے بھی پاک کر لیتا ہے۔ وہ اس ہوس کی جگہ خدا کی محبت کو اپنے دل میں بسا لیتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے نظام سے رضامندی دکھاتا ہے۔
مال و دولت میں سے زکوٰة دینے سے انسان کو اس بات کی بھی یاد دہانی ہوتی ہے کہ اس کا کمایا ہوا مال اس کا نہیں ہے بلکہ اس مال پر صرف خدا کا حق ہے اسی لیے خدا کی راہ میں وہ اپنے مال میں سے زکوٰة دوسروں کو دے دیتا ہے۔
زکوٰة کا نصاب
زکوٰة ادا کرنا محض ان لوگوں پر فرض ہے جن کے پاس بتائے ہوئے نصاب کے مطابق مندرجہ ذیل سامان موجود ہو۔
ساڑھے سات تولے سونا، ساڑھے باون تولہ چاندی، اور روپیہ پیسہ جو سونے یا چاندی میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر ہو۔
زکوٰة کے مصارف
صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
سورة التوبة آیت 60
اس آیت سے ہمیں زکوٰة کے مصارف پتا چلتے ہیں جیسے کہ
تنگ دست دوست جن کے پاس کچھ نہ ہو۔
وہ لوگ جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوں۔
زکوٰة جمع کرنے والا عملہ۔
وہ لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں۔
قید بند غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے۔
وہ لوگ جو اپنے قرض ادا نہ کر سکتے ہوں۔
اللہ کی راہ میں جہاد اور تبلیغ پر جانے والوں کے لیے۔
وہ مسافر جو سفر کی حالت میں نصاب نہ رکھتے ہوں۔
زکوٰة کی اہمیت
اللہ تعالی نے اس معاشی نظام کی بنیاد زکوٰة پر رکھی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد بار نماز قائم کرنے کے ساتھ زکوٰة ادا کرنے کا حکم ہوا ہے۔ جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ فرماتا ہے
اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
سورة البقرة آیت 43
نماز کا شمار بدنی عبادت میں ہوتا ہے اور زکوٰة کا شمار مالی عبادت میں ہوتا ہے۔ زکوٰة کی اس قدر اہمیت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰة سے انکار کرنے والوں سے جہاد کیا جبکہ وہ لوگ کلمہ گو تھے لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنی زندگی میں ان دونوں فرائض کی تعمیل میں کوئی فرق نہیں ہونے دوں گا۔
لیکن جو لوگ زکوٰة ادا نہیں کرتے ان لوگوں کے لیے اللہ تعالی فرماتا ہے
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنا دو۔
سورة التوبة آیت 34
اس آیت سے ہمیں بہتر طریقے سے پتہ چلتا ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی انسان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں نعمتوں کے حصول اور عذابِ جہنم سے بچنے کے لیے کتنی ضروری ہے۔
زکوٰة کے فوائد
جب انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اللہ کو اس کا یہ عمل اتنا پسند آتا ہے کہ وہ اسے ایثار سمجھتا ہے اور اس خرچ شدہ مال کو اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ فرماتا ہے کہ اس کے بدلے بندے کو کئی گنا واپس لوٹائے گا۔
اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دوچند دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔
سورة التغابن آیت 17
آج کی دنیا کے معاشی نظام میں محنت سے کئی گنا زیادہ سرمایہ کاری کی اہمیت اور افادیت دیکھنے کو ملتی ہے جس کے باعث محنت کش لوگ نسل در نسل غربت کا شکار ہیں اور اس کے برعکس سرمایہ کار طبقہ دولت ہتھیاتا چلا جا رہا ہے۔ زکوٰة ادا کرنے سے یہی دولت غریبوں تک پہنچائی جا سکتی ہے جس سے ان کی معاشی حالت میں بہتری آسکتی ہے۔ اس بات کا حکم خود اللہ بھی دیتا ہے
خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے۔
سورة البقرة آیت 276
اگر ایک طرف مفلس طبقہ، ناداری کے مصائب سے گھرا ہوا ہے تو دوسری جانب صاحبِ ثروت لوگ دولت کی فراوانی سے اخلاقی برائیوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جیسے کہ عیاشی، آرام کی لت اور فکرِ آخرت سے غفلت۔ ایسے ہی مسائل سے بچنے کے لیے اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجی تھی جس میں اس نے فرمایا
ان کے مال میں سے زکوٰة قبول کر لو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو
سورة التوبة آیت 103
زکوٰة ادا کرنے کے اصول
انسان کے مال پر زکوٰة اس وقت واجب ہوتی ہے اسے وہ مال جمع کیے ہوئے پورا ایک سال گزر جائے۔
انسان سے جڑے وہ رشتے جن کی کفالت شرعی طور پر اس پر فرض ہے جیسا کہ ماں، باپ، شوہر، بیوی اور اولاد، انہیں زکوٰة نہیں دی جاسکتی۔
زکوٰة محض مسلمانوں سے لی جاسکتی ہے۔
زکوٰة دینے والے کو یہ اطمینان کر لینا چاہیے کہ زکوٰة لینے والا اس کا حقدار ہے بھی یا نہیں۔
زکوٰة کے مستحق لوگوں کو بتانا ضروری نہیں ہے کہ دی جانے والی رقم زکوٰة کی ہے، ان کی مدد خاموشی سے بھی کی جاسکتی ہے۔
اللہ ہم سب صاحبِ نصاب لوگوں کو زکوٰة ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
نمایاں تصویر: پکسابے