اسلام کی تاریخ میں ہمیں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں، جو آج کے دور کی خواتین کو بے حد متاثر کر سکتی ہیں اور ان کی زندگیوں کے بارے میں جان کر اور بھی بہت سی اہم معلومات لی جا سکتی ہے۔
آئیں ان عظیم مسلمہ کے بارے میں جانیں
حضرت مریم بنت عمران عليه السلام
حضرت مریم بنت عمران عليه السلام یا ورجن مریم، عیسیٰ عليه السلام کی والدہ، اسلام کی تاریخ میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ وہ واحد خاتون ہیں جن کا نام قرآن مجید میں ہے، اور ایک پوری سورہ، سورہ مریم ہے، جس کا نام ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں انسانیت کی تاریخ کی سب سے زیادہ کامل خواتین میں سے ایک قرار دیا۔
حضرت مریم بنت عمران عليه السلام کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت آسیہ بنت مزاحم رضي الله عنه
حضرت آسیہ بنت مزاحم رضي الله عنه مصری فرعون کی بیوی تھی۔ وہ ایک متقی عورت تھیں، اور ان کا حقیقی ایمان اتنا معزز اور اونچا تھا کہ اللہ نے خود ان کی مثال مومنوں کو دی۔ اور اللہ کی طرف سے، جب انہوں نے اپنے رب کی اطاعت کا فیصلہ کیا تو فرعون کے کفر نے اس کی بیوی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔
اللہ نے انہیں بچپن میں ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پناہ دینے کے لئے منتخب کیا تھا۔
حضرت آسیہ بنت مزاحم رضي الله عنه کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت خدیجہ بنت خویلد رضي الله عنه
حضرت خدیجہ رضي الله عنه ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی بیوی تھیں۔ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانے والی پہلی شخصیت تھیں۔ ان کے والد ایک مقبول تاجر تھے جو بدقسمتی سے ایک جنگ میں مر گئے جب حضرت خدیجہ رضي الله عنه بہت کم عمر میں تھیں۔ ان کے بعد وہ بھی ایک کامیاب کاروباری خاتون بن گئیں۔ وہ نہ صرف کاروبار میں کامیاب رہی بلکہ وہ اپنے اچھے کردار، شفقت اور سخاوت کے لئے بھی مشہور تھیں۔
حضرت خدیجہ رضي الله عنه کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنه
حضرت عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی آسمانوں پر طے کی گئ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیسری بیوی تھیں۔ وہ نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہیں۔
حضرت عائشہ اللہ عنہا کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ عنہا
حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ ان کی شادی ابو العاص بن الربیع سے ہوئی جو قریش کے عبد الشمس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں دو بچوں علی اور امیہ سے نوازا گیا، اگرچہ افسوس کی بات یہ ہے کہ علی کا بچپن میں انتقال ہو گیا۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دوسری بیٹی حضرت رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پیدائش کے تین سال بعد پیدا ہوئیں۔ اللہ نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ایک بیٹے سے نوازا جس کا نام انہوں نے عبداللہ رکھا۔ بدقسمتی سے وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہا اور چھ سال کی کم عمری میں ہی اس کا انتقال ہو گیا۔
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا
حضرت ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی تیسری بیٹی تھیں۔ وہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ایک سال چھوٹی تھیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عفات کے بعد حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا والدہ کی موت سے بے حد غمگین ہو گئیں، لیکن حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے اپنے آپ کو پختہ انداز میں سنبھالے رکھا، کیونکہ اپنی والدہ کی عدم موجودگی میں انہیں پورے گھر کے ساتھ ساتھ اپنی چھوٹی بہن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دیکھ بھال کرنی پڑتی تھی۔
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا
حضرت فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔ جب اللہ نے انکے والد کو نبوت سے نوازا تھا وہ اس سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی ہمدرد اور نرم مزاج فطرت کے لئے مشہور تھیں۔ وہ بے لوث اور غریبوں اور مساکین کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتی تھیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت فاطمہ سے بیت پیار تھا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت ام حرم بنت ملحان رضی اللہ عنہ
حضرت ام حرم بنت ملحان رضی اللہ عنہ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماموں اور حصرت عمرو بن قیس بن زید رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کے شوہر اور ان کے بیٹے دونوں جنگ احد میں شہید ہوئے تھے۔ بعد میں، انہوں نے حضرت عبادہ بن السامت رضی اللہ عنہ سے شادی کی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ام حرم رضی اللہ عنہ کی بہت عزت کرتے تھے اور جب بھی قبا جاتے تو حضرت ام حرم بنت ملحان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرتے تھے۔
حضرت ام حرم رضی اللہ عنہ کے بارے میں مزید پڑھیں۔
آئکسا الحورہ
آئکسا الحورہ ایسی خاتون تھیں جو اپنی بہادری اور قائدانہ صلاحیتوں کے لئے جانی جاتی تھیں۔ ان کا تعلق اس دور سے تھا جب سپین میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہو رہی تھی۔ عائشہ بنت محمد بن الاحمر نامی یہ خاتون اپنے ہسپانوی نام آئکسہ الحورہ سے زیادہ معروف تھیں جس کا مطلب معزز عائشہ ہے۔ آئکسا الحورہ، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ایک متاثر کن مسلمان عورت کے طور پر جانی جاتی ہیں جن میں خطرے کے باوجود ثابت قدم کھڑے ہونے کی ہمت تھی۔
آئکسا الحورہ کے بارے میں مزید پڑھیں۔
فاطمہ الفہری
فاطمہ الفہری، محمد نامی ایک سوداگر کی بیٹی تھی، وہ فیز کی خاتون اور لڑکوں کی ماں کے نام سے مشہور تھی۔ فاطمہ الفہری پہلی تعلیمی یونیورسٹی کی بانی تھی۔ فاطمہ کے بارے میں سب سے قابل تعریف بات یہ ہے کہ وہ ایک عورت تھی جس کے زہن میں ایک مقصد تھا۔ اگرچہ وہ ایک دولت مند خاتون تھی انہوں نے پھر بھی اپنی رقم دوسرے لوگوں اور تعلیم میں لگانے کا فیصلہ کیا۔
فاطمہ الفہری کے بارے میں مزید پڑھیں۔
حضرت سمیّہ بنت خیاط رضي الله عنه
حضرت سمیّہ بنت خیاط رضي الله عنه اسلام کی پہلی شہید خاتون تھیں۔ وہ ابو حذیفہ بن المغیرہ کی خدمت میں تھیں جنہوں نے بعد میں انہیں مکہ آنے والے یمنی یاسر بن عمار رضي الله عنه کے نکاح میں دے دیا اور انہوں نے وہیں رہنا شروع کر دیا۔ حضرت سمیّہ رضي الله عنه اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت اور پیغام پر ایمان لانے والے اولین لوگوں پیں سے تھیں۔ وہ اسلام قبول کرنے والی ساتویں شخصیت تھیں۔
حضرت سمیّہ رضي الله عنه کے بارے میں مزید پڑھیں۔
نمایاں تصویر: پکسابے